اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کا ہیڈکوارٹر کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے سے متعلق ترمیمی بل 2022ء کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ اورسینیٹر رخسانہ زبیری نے ترمیمی بل کی مخالفت کی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ادارے کا ہیڈکوارٹر کسی صوبے میں قائم کیا جاتا، بل سے صوبوں کی ہم آہنگی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔کمیٹی نے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے فنڈز خرچ نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں حکام سے فنڈز خرچ نہ کرنے کے حوالے سے تفصیلات طلب کرلیں۔بدھ کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سردارمحمدشفیق ترین کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔اجلاس میں کمیٹی ارکان کے علاوہ وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز، سیکریٹری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، قائم مقام ڈی جی پی ایس کیو سی اے کے علاوہ دیگرمتعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اراکین کمیٹی نے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے حکام سے سوال کیا کہ ترمیم کرکے پی ایس کیو سی اے کا ہیڈکوارٹر کراچی سے کیوں منتقل کرنا چاہتے ہیں اور اس سے لوگوں کو کیا فائدہ ہوگا؟ سیکرٹری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بتایا کہ وزارت کے حکام یہاں اسلام آباد میں بیٹھتے ہیں کوئی ایمرجنسی ہوتی ہے تو یہاں سے کراچی اور کراچی سے یہاں حکام کو آنا پڑتا ہے۔
