وزیراعظم عمران خان نے حامد میر اور نجم سیٹھی سمیت حکومت مخالف مزید صحافیوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ہدایت کی ہے کہ نجم سیٹھی، حامد میر، سلیم صافی، مرتضیٰ سولنگی، عامرمیر، عمران شفقت، عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی، کامران شاہد، اسدطور، ابصارعالم اور ندیم ملک کی گرفتاری کے لیے مواد کا بندوبست کریں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزرا نے اپنے دوست صحافیوں کو بھی خبردار کرتے ہوئے محتاط رہنےکا مشورہ دے دیا ہے۔
دوسری جانب صحٖافی اسد طور کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے مخالفین سیاسی رہنماؤں ، اختلافی صحافیوں اور آواز اٹھانے والون کے خلاف مقدمات شروع کرنے کیلئے CTD اور پولیس کو اختیارات دینے کا حکم دے دیا ہے۔
اسد طور نے بتایا کہ ‘ایک پریشان کن پیشرفت میں، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان زور دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں/کارکنوں، تنقیدی صحافیوں اور اختلافی آوازوں کے خلاف مقدمات شروع کرنے کے لیے #PECA قانون کے تحت CTD اور پولیس کو اختیارات دینے کے لیے حکام کو ہدایات دی ہیں۔’
#BREAKING: In a disturbing development, well placed sources say PM @ImranKhanPTI is pushing and has given directions to authorities to give CTD and Police powers under #PECA law to initiate cases against his political rivals/workers, critical journalists and dissenting voices.
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) February 17, 2022
اس پیش رفت پر پی ٹی آئی کے سابق رہنما اکبر ایس بابر نے کہا کہ
‘مدینہ کی ریاست میں امیرالمومنین ذاتی سوال پوچھنے پر اپنے لباس کا جواب دیتے تھے، اس کے برعکس آج کی ریاست میں سوال پوچھنے پر منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے۔’
مدینہ کی ریاست میں امیرالمومنین ذاتی سوال پوچھنے پر اپنے لباس کا جواب دیتے تھے۔
اس کے برعکس آج کی ریاست میں سوال پوچھنے پر منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے۔
— Akbar S. Babar PTI (@asbabar786) February 16, 2022
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے پر پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ سینئر صحافی محسن بیگ کے گھر پر چھاپہ مار کرانہیں گرفتار کیا تھا۔
صحافی محسن بیگ کے خلاف ایف آئی اے نے وفاقی وزیر مراد سعید کی شکایت پر مقدمہ درج کیا جبکہ پولیس نے الگ سے انسداد دہشت گردی ایکٹ کا مقدمہ درج کیا۔
اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں محسن بیگ کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں ان کے بیٹے کو بھی نامزد کیاگیا تھا، جس میں دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی تھیں۔ جب کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے بھی وفاقی وزیر مراد سعید کی درخواست پر محسن بیگ کے خلاف مقدمہ درج کیاتھا۔
ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ محسن بیگ نے بیٹے و ملازمین کے ہمراہ سرکاری ملازمین پر فائرنگ کرکے جرم کا ارتکاب کیا، ملزم کو تھانہ مارگلہ اسلام آباد منتقل کیاگیا تھا۔ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے گزشتہ روز محسن بیگ کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
