سنگاپور (انٹرنیشنل ڈیسک) سنگاپورکے وزیراعظم لی شین لا نگ نے کہا ہے کہ بھارتی پارلیمان کے آدھے سے زیادہ ارکان مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔ انہوں نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج نہرو کا بھارت ایسا ہوچکا ہے کہ جہاں لوک سبھا میں قتل اور خواتین سے زیادتی کا ریکارڈ ڑکھنے والوں کی بھرمار ہے۔ بھارت میں ابتدا میں جمہوریت تھی ، لیکن اس کے بعد حالات تبدیل ہوتے گئے۔ مجرمانہ اورخلاف قانون سرگرمیوں کی جانب سے آنکھیں بند رکھی گئیں جس کے باعث حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں۔ دوسری جانب اہم شراکت دار ملک کی طرف سے آئینہ دکھائے جانے پر مودی سرکار سیخ پا ہوگئی۔ بھارتی وزارت خارجہ نے سنگاپور کے سفیر سائمن وونگ کو طلب کرکے وزیر اعظم لی شین لانگ کے بیان پر سخت ناراضی ظاہر کی اور بیان کو غیر ضروری قرار دے دیا۔ سنگاپور بھارت کا ایک اہم شراکت دار ہے اوردونوں ممالک کی چوٹی کی قیادت کے درمیان قریبی تعلقا ت بھی ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان جیسے بعض ممالک کے سفیروں کو وزارت خارجہ میں طلب کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے ۔بھارت میں غیر سرکاری تنظیم ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمز(اے ڈی آر) کی رپورٹ کے مطابق 2019 ء کے عام انتخابات میں منتخب ہونے والے539 ارکان پارلیمان میں سے 233 یعنی 43 فیصد کے خلاف مجرمانہ مقدمات زیر التوا ہیں۔ اے ڈی آر کے مطابق 2014 ء کے الیکشن میں مجرمانہ ریکارڈ کے حامل منتخب ارکان کے مقابلے میں 2019 ء میں 26 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔اے ڈی آر کے مطابق مجرمانہ کیسوںوالے سب سے زیادہ 116 ارکان بی جے پی کے ہیں۔ اس کے علاوہ کانگریس کے 29، جنتا دل یونائیٹڈ کے 13،ڈی ایم کے کے 10اور ترنمول کانگریس کے 9ارکان کے خلاف مجرمانہ کیس ہیں۔ بی جے پی کے جن ارکان کے خلاف مجرمانہ کیس ہیں ان میں 4مرکزی وزرا شامل ہیں۔
