English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت کا سنگاپور کے وزیراعظم کے ’مجرمانہ‘ تبصرے پر برہمی کا اظہار

القمر

بھارتی عہدیداران کا کہنا ہے کہ بھارت نے سنگاپور کو ان کے وزیر اعظم کے بیان سے متعلق شکایت کردی۔

سنگاپور کےوزیر اعظم لی شین لونگ نے کہا تھا کہ بھارت پارلیمنٹ کے متعدد اراکین کو جرائم کے الزامات کا سامنا ہے، یہ دو ایشیائی اتحادیوں کے درمیان غیر معمولی اختلاف ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے سنگاپور کے سفیر کو طلبی کا نوٹ بھیجتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت خارجہ کو وضاحت پیش کریں۔

بھارتی وزارت کی جانب سے تبصرے سے انکار کردیا گیا لیکن عہدیداران نے سنگاپور کے سربراہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سنگاپور کے وزیر اعظم کا بیان نامناسب تھا، ہم اس معاملے پر سنگاپور سے بات کر رہے ہیں‘۔

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی کی قیادت جواہر لعل نہرو کے نواسے راہول گاندھی کررہے ہیں، انہیں اپنے پرانے رہنما کی تعریف کرنے اور اپنے حریفوں کو کمزور کا موقع حاصل ہوا ہے۔

کانگریس نے ایک ٹوئٹر بیان میں لکھا کہ ‘نہرو کی عظمت آج بھی عالمی رہنماؤں کو متاثر کرتی ہے’۔ ٹوئٹ میں کہا گیا کہ یہاں موجود لوگوں پر افسوس ہے جن کے پاس یہ سمجھنے کا وژن نہیں کہ وہ ایک غیر معمولی رہنما تھے‘۔

سنگاپور کے وزیر اعظم لی شین لونگ کا یہ بیان اپنی پارلیمنٹ میں ایک اپوزیشن رکن پر جھوٹ کے الزام پر ہونے والی بحث کے دوران سامنے آیا تھا۔

شین لی لونگ نے پارلیمانی معیارات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت کے حوالے سے کہا کہ برطانیہ سے 1947 میں آزادی کے بعد پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے بعد سے زوال پذیر ہیں۔

بھارت کے ایوان زیریں کا حوالہ دیتے ہوئے لی شین کا کہنا تھا کہ ’نہرو کا بھارت ایک ایسا ملک بن گیا ہے جہاں لوک سبھا میں موجود وزرا کے خلاف ریپ اور قتل کے الزامات زیر التوا ہیں‘۔

تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہت سے الزامات سیاسی طور پر محرک ہیں۔

وزیر اعظم شین لی کے دفتر نے کہا ہے کہ اس معاملے پر کہنے کےلیے کچھ بھی نہیں ہے۔

سنگاپور بھارت کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے، اور ان کے سرکردہ رہنماؤں کے درمیان قریبی تعلقات رہے ہیں، بھارتی خبر رساں ادارے نے کہا کہ ’نئی دہلی کے لیے قریبی اسٹریٹجک شراکت داروں کے سفیروں کو طلب کرنا غیر معمولی بات ہے، لیکن وہ بھارت کے اندرونی معاملات پر تبصروں کے بارے میں انتہائی حساس ہیں‘۔

نیوز ویب سائٹ کے مطابق سنگاپور کے وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں پرجوش بحث کے دوران بھارت کے پہلے وزیر اعظم کا ذکر کرتے ہوئے اس بارے میں بات کی تھی کہ شہری ریاست میں جمہوریت کو کیسے کام کرنا چاہیے۔

لی شین لونگ نے کہا کہ ’زیادہ تر ممالک اعلیٰ نظریات اور عظیم اقدار کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں اور شروع ہوتے ہیں، لیکن اکثر نہیں ہوتا، بانی رہنماؤں اور علمبردار نسل کے بعد دہائیوں اور نسلوں میں، رفتہ رفتہ چیزیں بدل جاتی ہیں۔‘

بھارت کے ‘تقریباً نصف’پارلیمنٹیرینز پر جرائم کے الزامات ہیں، سنگاپور کے وزیراعظم کا دعویٰ

سنگاپور کے وزیراعظم لی ہسین لونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی لوک سبھا کے ‘تقریباً نصف’ اراکین پر جرائم کے الزامات ہیں جبکہ نئی دہلی میں ان کے سفیر سے وضاحت طلب کرلی گئی۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق لی ہسین لونگ نے کہا کہ ‘نہرو کا بھارت اس طرح کا بن گیا ہے جہاں لوک سبھا میں تقریباً نصف اراکین کے خلاف ریپ اور قتل سمیت جرائم کے الزامات ہیں’۔

لی ہسین لونگ نے بھارتی اراکین پارلیمنٹ کے حوالے سے یہ بیان سنگاپور کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ایک رکن پر الزامات سے متعلق بحث کے دوران دیا۔

اسٹریٹ ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سنگاپور کے وزیراعظم نے اراکین اسمبلی کو کام کرنے کے لیے اچھے اقدار اور رویات پر مبنی جمہوری نظام کی ضرورت، حکومت پر عوام کے اعتماد کی اہمیت اور دیگر چیزوں پر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ ‘اکثر ممالک کی بنیاد رکھی گئی اور آغاز بڑے اخلاقی اقدار اور عظیم رویاکی بنیاد پر ہوا لیکن اس کے بعد بانی رہنماؤں اور بنیادیں رکھنے والی نسل سے ماورا دہائیوں اور نسلوں کے بعد چیزیں بتدریج تبدیل ہوئیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘چیزیں مکمل شدت کے ساتھ شروع ہوئیں، جو قیادت آزادی کے لیے لڑی اور جیت گئی تھی وہ عظیم حوصلے اور غیرمعمولی قابلیت کی حامل انفرادی شخصیات تھیں’۔

تاریخی شخصیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘وہ آگ کی بھٹی سے گزرے اور عوام اور قوم کی قیادت کی، وہ ڈیوڈ بین گوریئنز، جواہرلال نہرو تھے اور ہمارے اپنے قائدین بھی ہیں’۔

انہوں نے اسرائیل اور بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تاہم ان کے بعد کی نسلیں اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتی رہیں۔

سنگاپور کے وزیراعظم نے کہا کہ ‘بین-گوریئن کا اسرائیل اس قدر بدل گیا ہے جہاں دو سال میں 4 دفعہ انتخابات کے باوجود بمشکل ایک حکومت تشکیل پاتی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں سینئر سیاست دانوں اور عہدیداروں کو جرائم کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سے چند جیل جاچکے ہیں۔

لی ہسین لونگ نے کہا کہ ‘دوسری طرف نہرو کے بھارت اس طرح بن گیا ہے جہاں میڈیا کی رپورٹس کے مطابق لوک سبھا میں تقریباً نصف اراکین کے خلاف جرائم کے الزامات زیر التوا ہیں، جس میں ریپ اور قتل کے الزامات شامل ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ تاہم ان میں سے کئی سیاسی طور پر عائد کیے گئے الزامات ہیں۔

بعد ازاں بھارت میں تعینات سنگاپور کے سفیر کو طلب کرکے ان سے وزیراعظم کے بیان کی وضاحت مانگی گئی۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے