مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی جلادوں کے ہولناک تشدد سے 20 سالہ فلسطینی قیدی احمد مناصرہ ذہنی توازن کھو بیٹھا۔ اسیر کے اہل خانہ نے بتایا کہ احمد مناصرہ کو دوران حراست بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس کی حالت بری طرح خراب ہوگئی ہے۔ احمد کو جب حراست میں لیا گیا تھا اس اس وقت عمر 18سال سے کم تھی۔ دوران حراست اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سر پرلاٹھیاں ماری گئیں ، جس کے نتیجے میں اس کے دماغ میں خون جم گیا۔ صہیونی جلادوں نے اسے ایک عرصے تک نیند اور آرام سے محروم رکھا اور اسے نفسیاتی اور ذہنی دباؤ کا شکار کیا گیا۔ اسیر کے اہل خانہ نے مناصرہ کا معاملہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کے سامنے پیش کیا ہے ۔ دوسری جانب بدنام زمانہ جلبوع جیل میں قیدی محمد نوارہ کو طبیعت خراب ہونے پر رام اللہ سے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق قیدی نوارہ 12 دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور اسرائیل کی بدنام زمانہ جلبوع جیل میں قید تنہائی کا شکار ہیں۔ جیل انتظامیہ نے 6 ماہ قبل قیدی نوار کو الگ تھلگ کیا تھا اور حال ہی میں سزا کی مدت میں تیسری بار توسیع کی گئی ہے۔ وہ 2001 ء سے نظر بند ہے اور اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
The post اسرائیلی فوج کے تشدد سے نوجوان ذہنی توازن کھو بیٹھا appeared first on Daily Jasarat News.
