English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان فٹبال کا ایدھی ، استاد حیدربلوچ

بابائے فٹبال استاد حیدر بلوچ ،جس نے اپنی پوری زندگی فٹبال کو دی انہوں نے فٹبال کھیلنے کا آغاز 1957 سے اپنے علاقے گولیمار اور کراچی کے مشہور و معروف ٹیم “مکران اسپورٹس” سے کیا تین سال تک وہ کراچی کے ہر فٹبال ٹورنامنٹ میں اپنی ٹیم کا ہراول دستہ رہے ہیں ۔1960 کو انہوں نے “سندھ گورنمنٹ پریس” کی فٹبال ٹیم کو جوائن کیا اور آج تک وہ اس ٹیم کا حصہ ہیں ان کا شمار اپنے زمانے کے بہترین دفاعی کھلاڑیوں (فل بیکس) میں ہوتا تھا انہوں نے بطور کپتان پاکستان کے ہر بڑے ایونٹ میں سندھ گورنمنٹ پریس کی نمائندگی کی 1966 میں اپنے ٹیم کے ہمراہ سابق مشرقی پاکستان (بنگلا دیش) اور 1969 میں نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں چمپیئن شپ میں حصہ لے چکے ہیں نیپال میں ہی کھیلے گئے بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ میں پاکستانی قومی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں –
سندھ گورنمنٹ پریس کی فٹبال ٹیم گو کہ سندھ حکومت کے ایک ذیلی ادارہ کی ایک مشہور و معروف ڈپارٹمنٹل ٹیم تھی جس نے پاکستان کے فٹ بال کو نامی گرامی فٹبالرز دیے ہیں- “استاد حیدر بلوچ” فٹبال سے جنون کی حد تک محبت کرنے والے حقیقی فٹبال لور ہیں جس نے اپنا تن من دھن “سندھ گورنمنٹ پریس” کی فٹبال ٹیم کے لیے وقف کیے رکھا اس دور میں بھی انہوں نے اپنے ذاتی خرچہ سے بھاری مراعات پر دوسرے سرکاری غیر سرکاری ڈپارٹمنٹل ٹیموں کے مقابلے میں کھلاڑیوں کو دگنے معاوضہ دے کر “پریس” کی فٹبال ٹیم کے لیے حاصل کیا ۔ان کی ہر سہولیات کا خیال رکھتے ہوئے ان کی ہر ڈیمانڈ وہ پورا کرتے تھے اس دور میں کھلاڑیوں کو انہوں نے کار کے علاؤہ گھر بنا کر دیے۔ ایک مہربان باپ بن کر اپنے بچوں کی طرح کھلاڑیوں کی شادی تک اپنے جیب سے کروائی جس کی مثال پورے پاکستان کے فٹ بال کے حلقوں میں شاد و نادر ہی نظر آئے گی ” استاد حیدر بلوچ” جیسے فٹبال سے والہانہ محبت کرنے والی شخصیت بہت ہی کم پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستان کے تقریباً تمام ڈپارٹمنٹل ٹیمیں بند ہونے کو ہیں لیکن اس پیرانہ سالی میں آج بھی جب 8-10 ٹیموں کا کوئی ٹورنامنٹ چودہ اگست یوم آادی یا 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان کے نام پر کے ایم سی گراؤنڈ میں شروع کیا جاتا ہے تو وہ چاک وچوبند نوجوان کی مانند ادھر اْدھر سے 15-20 کھلاڑی اکھٹا کر کے “سندھ گورنمنٹ پریس” کی ٹیم کو زندہ کیے ہوئے ہیں جس میں ان کے دیرینہ وفادار ساتھی قومی ہیرو علی نواز بلوچ سابق فیفا ریفری احمد جان ، حسن بلوچ ،عبدالواحد (پی آئی اے) اور خاص کر جیکب آباد کے علی بہار بروہی ان کے شانہ بشانہ نظر آتے ہیں۔ لیکن افسوس سد افسوس فٹبال کے کرتا دھرتا ذمہ داران کو آج تک ان کی عزت افزائی کے لیے ان کے شایان شان کوئی پروگرام کا اہتمام کرنے کا خیال تک نہیں آیا جو کسی المیہ سے کم نہیں۔ استاد حیدر سندھ فٹبال کی شان ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے