English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یورپی یونین ہنگامی اجلاس: روس پر نئی پابندیاں

القمر

یورپی یونین ہنگامی سربراہی اجلاس میں سربراہان نے روس کے خلاف مالیات، توانائی، رسل و رسائل، برآمداتی کنٹرول و فنانسنگ، ویزہ پالیسی اور افراد کو ہدف بنانے والی اضافی پابندیوں کو منظور کر لیا ہے۔

یورپی  یونین رکن ممالک کے سربراہان نے ٹرم چئیر مین ملک فرانس  کے صدر  امانوئیل ماکرون کی طلب اور یورپی یونین کونسل کے سربراہ چارلس میشل کی اپیل پر بیلجئیم کے دارالحکومت برسلز میں ہنگامی ایجنڈے کے ساتھ اجلاس کیا۔

اختتامی اعلامیے کے مطابق اجلاس میں  ماسکو  انتظامیہ کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

اجلاس کے اختتام پر صدر امانوئیل ماکرون نے یورپی یونین کمیشن کی سربراہ ارسولا وان در لئین اور چارلس میشل کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

کانفرنس سے خطاب میں لئین نے کہا ہے کہ منظور کردہ پابندی پیکیج  روسی اقتصادیات اور سیاسی ترجیحات کو  شدت سے متاثر کرے گا۔ نئی پابندیاں مالیات، توانائی اور رسل و رسائل کا احاطہ کرتی ہیں اس کے علاوہ برآمدتی کنٹرول و فنانسگ اور ویزہ پالیسی بھی پابندیوں میں شامل ہے۔ پیکیج میں، روس کی اہم سرمائے کی منڈیوں تک رسائی کو روکنے والی، مالیاتی پابندیاں  بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ پابندیاں روس کی بینکاری منڈی کے 70 فیصد کا ہدف رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ دفاع سمیت اہم نجی کمپنیاں بھی پابندی پیکیج میں داخل ہیں۔

لئین نے کہا ہے کہ پابندیاں روس کے قرضہ جات کی مالیت میں اور افراطِ زر میں اضافہ کر دیں گی اور روسی صنعت کی بنیاد کو بوسیدہ کر دیں گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ روس کی نمایاں شخصیات یورپ کی محفوظ بندرگاہوں میں اپنی دولت کو محفوظ نہیں کر سکیں گی۔ ان شخصیات کے اکاونٹ بھی زیرِ کنٹرول ہوں گے۔

لئین نے کہا ہے کہ برآمداتی پابندیاں روس کی پیٹرول ریفائنریوں کی تجدید کو ناممکن بنا دیں گی۔ یورپ روس کو  پیٹرول ریفائننگ کے لئے ضروری سامان فراہم نہیں کرے گا۔ روس   کے لئے طیاروں کے اسپئیر پارٹس کی خرید بھی ممنوع ہو گی۔

ارسولا وان در لئین نے کہا ہے کہ روس کی، چِپ جیسی اہم ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہو جائے گی اور روسی سفارتکاروں اور کاروباری شخصیات کے لئے ویزہ پالیسی تبدیل کر دی جائے گی اور ان افراد کو یورپی ممالک میں امتیازی  نقل و حرکت کی سہولت حاصل نہیں ہو گی۔

واضح رہے کہ روس نے کل یوکرائن پر حملہ کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے