
اسلام آباد(اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو عام آدمی تک پہنچنے سے روکنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومت نے کورونا وبا کے دوران پیدا ہونے والے مہنگائی کے عالمی بحران میں عوامی ریلیف کو یقینی بنایا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں ملکی اقتصادی صورتحال اور عالمی سطح پر اشیاء ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کے حالیہ دورہ روس اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات پر پیش رفت پر تفصیلی غور کیا گیا، اجلاس میں وفاقی وزرا شوکت فیاض ترین، فواد چودھری، اسد عمر، مخدوم خسرو بختیار، حماد اظہر اور معاونِ خصوصی ثانیہ نشتر نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ۔حکومت نے کورونا وبا کے دوران پیدا ہونے والے مہنگائی کے عالمی بحران میں عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو عام آدمی تک پہنچنے سے روکنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔اجلاس کو ملکی مجموعی اقتصادی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حالیہ کشیدگی کی صورتحال کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں جبکہ گیس کی قیمتوں میں بھی 3 سے 5 گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اشیا خوردو نوش بالخصوص پام آئل (خوردنی تیل) کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔علاوہ ازیںوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نیا پاکستان قومی صحت کارڈ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے، یونیورسل ہیلتھ کوریج کا نظام کئی ترقی یافتہ ممالک میں بھی موجود نہیں، ہیلتھ کارڈ کا سب سے زیادہ فائدہ غریب اور متوسط طبقے کو ہورہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو صحت کے شعبے کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان، صوبائی وزرا ڈاکٹر یاسمین راشد اور تیمور سلیم جھگڑا نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی، صحت کارڈ اور جاری منصوبوں پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ نیا پاکستان قومی صحت کارڈ پروگرام کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عوام کی بڑی تعداد مفت صحت کی سہولیات سے مستفید ہو رہی ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ حکومت کے اقدامات کی بدولت ملک میں جنرل ویکسی نیشن کی شرح 66 فیصد سے بڑھ کر 76فیصد ہو چکی ہے جبکہ پنجاب میں اس کی شرح بڑھ کر 91 فیصد ہو گئی ہے جس کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ کورونا ویکسی نیشن کی شرح کے حوالے سے بھی متعین شدہ اہداف حاصل کیے جارہے ہیں۔ وزیرِاعظم نے بنیادی صحت کے حوالے سے جاری منصوبوں اور اقدامات پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صنعتی شعبے کی ترقی سماجی و اقتصادی ترقی کی کلید ہے، ہم نے ملک میں صنعتوں کے فروغ کیلیے این او سی رجیم کی بجائے کمپلائنس رجیم متعارف کرائی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جمعہ کو یہاں صنعتکاروں کے وفد کے ساتھ ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے اور غربت کے خاتمے کے لیے صنعتی شعبے کی ترقی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے ملک میں تیزی سے صنعتکاری کے لیے سرمایہ کاروں کو ترغیب دلانے کے لیے ملک میں کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کی ہدایت کی۔ملاقات میں معروف صنعتکار میاں انجم نثار اور محمد عرفان موجود تھے۔
