پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے صحافی نے سوال کیا کہ آپ ایک سال کیلئے آکر کیسے ڈوبتی معیشت کو سہارا دینگے؟ جس پر جواب دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ کس نے کہا تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وہ آئیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ
’’میں ان لوگوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وزارت عظمیٰ کے لیے میرا نام تجویز کیا… لیکن کون کہتا ہے کہ میں ایک سال یا اس سے زیادہ کے لیے عہدہ سنبھال رہا ہوں؟ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے تناظر میں نئے وزیراعظم کے بارے میں فیصلہ (ن لیگ کے قائد) نواز شریف اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سے کریں گے”۔
نوازشریف میرے قائد ہیں وہ جو حکم دیں گے ہم وہ فیصلہ کریں گے@CMShehbaz pic.twitter.com/je5NgpBmtb
— PML(N) (@pmln_org) February 25, 2022
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عدم اعتماد آئینی اور سیاسی حق ہے، اس کے استعمال سے کوئی نہیں روک سکتا، عدم اعتماد کی تحریک کب آئے گی؟ وقت آنے پر بتا دیں گے۔واضح رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے لیے لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کیلئے چوہدری برادران نے پیپلز پارٹی کے سامنے مطالبات رکھ دیے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ ق نے سابق صدر آصف زرداری کو چارٹر آف ڈیمانڈ دے دیا، اپوزیشن سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ مانگ لی۔ق لیگ نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے کم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
