اقوام متحدہ میں روسی مشن نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہم مقبوضہ علاقے جولان کی پہاڑیوں میں آبادکاری کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے حوالے سے اسرائیل کے اعلان کردہ منصوبوں پر فکر مند ہیں۔ اقوام متحدہ میں روس کے مستقل رکن کے مشن کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ 1949 ء کے جنیوا کنونشن کی شقوں سے متصادم ہے۔ٹویٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جولان کی پہاڑیوں کا علاقہ جو شام کا حصہ ہے اس پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔واضح رہے کہ اسرائیل نے1967 ء میں شام کے علاقے جولان کی پہاڑیوں پرقبضہ کر لیا تھا اور 1981 ء میں اس تمام علاقے کو اسرائیلی بستیوں کے ساتھ جوڑ لیا تھا ، تاہم عالمی برادری نے اسے تسلیم نہیں کیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جولان کی پہاڑیوں کے علاقے میں اپنے قوانین لاگو کرنے اور انتظامیہ مسلط کرنے کا اسرائیلی فیصلہ بین الاقوامی قانون سے میل نہیں کھاتا۔واضح رہے کہ شام پر قابض بشار الاسد کی حکومت روس کا مہرہ ہے ،جب کہ اسرائیلی آئے روز ایران نواز جنگجوؤں پر بمباری کے دوران اسدی فوج پر بھی حملے کرتا رہتا ہے۔ ادھر اسدی فوج کے خلاف مزاحمت کاروں کو ترکی اور امریکا کی حمایت حاصل ہے۔
