English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

برآمدات میں اضافہ، غیر ضروری درآمدات کا خاتمہ کیا جائے ، مرکزی شوریٰ جماعت اسلامی

لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق منصورہ میں مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں ، سیکرٹری جنرل امیر العظیم بھی موجود ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی زیر صدارت منصورہ میں جاری جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے ایک قراردادمیں کہا ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان نے محض تنقید کرنے کے بجائے معیشت کی بہتری کے لیے ہمیشہ متبادل تجاویز دی ہیں۔ اب بھی ہم سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف پر انحصار کا خاتمہ،سودی معیشت سے مکمل نجات ، ارتکاز دولت کی حوصلہ شکنی،حرام ذرائع سے دولت کمانے پر مکمل پابندی،سٹے بازی، قمار بازی، ذخیرہ اندوزی ، شاہانہ اخراجات ،مصنوعی طریقے سے قیمتیں بڑھانے کے عمل کا مکمل خاتمہ انتہائی ضروری ہے ۔قرارداد میں ملکی معیشت میں بہتری کے لیے تجاویز دیتے ہوئے کہاگیا ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کی بنیاد پر اسلامی معیشت کا نفاذ ، قرضوں کی معیشت پر مکمل پابندی ،برآمدات میں اضافہ اورغیر ضروری درآمدات کا خاتمہ ، بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے سرکاری رہائش گاہوں کی اراضی بیرون ملک پاکستانیوں کو زرمبادلہ میں ادائیگی کی شرط پر پُر کشش قیمتوں پر فروخت ،قانون وراثت پر اس کی روح کے مطابق مکمل عمل اور دولت کی منصفانہ تقسیم ،زراعت کی فی ایکٹر پیداوار میں اضافہ اور کاشتکار کو مزید سہولتوں کی فراہمی،سندھ سمیت تمام صوبوں میں دریائی پانی کی منصفانہ تقسیم ،صوبوں کی مشاورت سے نئے این ایف سی ایوارڈ کا فیصلہ نیز بلدیاتی اداروں کو بجٹ کا اجرا،کم از کم شرح سے ٹیکس عاید کرکے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ۔ امیروں پر براہ راست ٹیکس میں اضافہ او رغریبوں پر بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی،تنخواہ دار طبقے کی تنخواہوں اور مزدوروں کی اجرت میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ جیسے اقدامات کی ضرورت ہے۔قرار داد میں مطالبہ کیا گیاہے کہ پیٹرولیم مصنوعات میں حالیہ اضافے کو واپس لیاجائے۔منی بجٹ میں عاید زاید ٹیکسوں کو ختم کیاجائے۔ گورنرا سٹیٹ بینک کو برطرف کیاجائے اورا سٹیٹ بینک ترمیمی بل واپس لیاجائے۔ حکومت سودی معیشت ختم کرے اور وفاقی شرعی عدالت کے حق سماعت کی مخالفت اور سودی قوانین کی برقراری کے اپنے موقف کو واپس لے۔مرکزی مجلس شوریٰ یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ اگر حکومت آئی ایم ایف کی غلامی کاراستہ ترک کرکے بدترین مہنگائی اور سودی معیشت کاخاتمہ نہیںکرسکتی تو استعفا دے کر گھر جائے تاکہ نئے انتخابات کاراستہ ہموار ہوسکے۔ ظاہر ہے کہ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کے قیام کو اپناحقیقی مشن بنانے والی کوئی خداخوف، باصلاحیت، دیانتدار حکومت اوراس کی ماہرین معیشت پر مشتمل ٹیم ہی معیشت میں انقلابی تبدیلی کرسکتی ہے۔ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنی نااہلی ، بدترین طرز حکمرانی اور ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کو عملاً عالمی ساہوکارمالیاتی اداروں یعنی ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کا غلام بنا دیا ہے اورقوم میں یہ احساس مسلسل بڑھ رہاہے۔ حکمران اس وقت ملک کو قسطوں میں فروخت کررہے ہیںاور اس طرح پاکستان کی معیشت ہی نہیں سلامتی ، سا لمیت ،خود مختاری ، آزادی اور دفاعی صلاحیت بھی عالمی مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ دی گئی ہے جبکہ ہماری موٹرویزاور ائرپورٹس بھی ضمانت کے طور پر عالمی مالیاتی اداروں کے پاس رہن ہیں۔ عالمی دباؤ پرا سٹیٹ بینک کو عالمی مالیاتی اداروں کی تحویل میں دے دیاگیاہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک کا تقرر،احتساب ، تنزلی ، کارکردگی روپے کی قدر اور بینک کی مالیاتی پالیسیوں کے سلسلے میں خود قانون سازی کرکے اپنے ہاتھ کا ٹ کر عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے کردیے گئے ہیں۔ اب اسٹیٹ بینک محض نام کی حد تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان ہے۔ گزشتہ دنوں آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر قرض حاصل کرنے کے لیے منی بجٹ پیش کیاگیا۔ جس کے ذریعے پہلے سے زندہ درگور عوام پر 360ارب روپے کے اضافی ٹیکسوں کابوجھ لاددیا گیاہے۔مجلس شوریٰ کے اجلاس کے دوسرے روز پاس کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ادارہ شماریات پاکستان کے دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اشیائے صرف کی قیمتوں میں متعدد مرتبہ بدترین اضافوں کے ذریعے ساڑھے 3 سال میں اکثر اشیا کی قیمتیں د گنا ہی نہیں 3 گنا ہوچکی ہیں۔ اس وقت پاکستان کی پوری تاریخ کی بدترین مہنگائی قوم پر مسلط ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4فیصد کمی کے باوجود پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کیاگیاہے۔ تابعداری کا یہ عالم ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 12روپے 3پیسے کے اضافے کی ہدایت ملی ہے تو اس پر من و عن عمل کیاگیااور عوام کو 3پیسے کی چھوٹ بھی نہیں دی گئی۔ایک مرتبہ پھر بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 6.40روپے کا اضافہ کیاجارہاہے۔آٹا،چینی ، خوردنی تیل ، پیٹرولیم مصنوعات ، کھاد ، ادویات وغیرہ کی قیمتیں متعددمرتبہ کے اضافوں کی وجہ سے آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ عوام کے گھروں کے چولہے سرد ہیں۔ لوگ بھوک کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور بنادیے گئے ہیں۔ یقیناً بھوک سے ستائے اور غربت کے مارے عوام کی آہیں اور بددعائیں عرش الٰہی کو بھی ہلا رہی ہیں۔ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والے حکمرانوں نے مزید سوا 2 کروڑ افراد کو روزگار سے محروم کردیا ہے ۔ جن میں 5 لاکھ ڈگری ہولڈ ربھی شامل ہیں جبکہ 50 لاکھ گھروں کے وعدے کرنے والوں نے عوام کو جھونپڑیوں سے بھی محروم کردیا ہے۔ بجلی ، گیس کی قیمتیں اپنی تاریخ کی بدترین سطح پر ہیں ۔یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ہر بڑے معاشی بحران کے پیچھے خود حکومتی وزرا موجود ہیں۔ چینی کے مصنوعی بحران کے ذریعے حکومتی وزرا سمیت چینی مافیا نے عوام کی جیبوں پر 184ارب روپے کا ڈاکا ڈالا ہے جبکہ آٹا مافیا نے 220ارب روپے لوٹے ہیں۔توانائی بحران پیداکرکے IPPSکو عوام سے 350ارب روپے لوٹنے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ ایل این جی اسیکنڈل کے ذریعے 100ارب روپے لوٹے گئے ہیں۔ ادویات کی قیمتوں میں 13مرتبہ اضافہ ہوا ہے۔ سنگ دلی کی انتہا یہ ہے کہ کورونا کے امدادی فنڈ میں سے بھی 300ارب روپے لو ٹ لیے گئے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ناقابل تصور کمی ہوئی اور اب ڈالر کاتبادلہ 122کے بجائے 170روپے میں ہوتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری معیشت کی گاڑی اناڑی ڈرائیور کے ہاتھوں میں تیزی سے ڈھلوان پر جاری ہے اور بد قسمتی سے اس کی بریکیں بھی فیل ہوچکی ہیں۔کرپشن کے خاتمے اور کرپٹ افراد کے محاسبے کے نعرے کی بنیاد پر برسراقتدار آنے والی حکومت نے خود کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کرپشن کے لحاظ سے 117نمبر سے ترقی کرکے 140نمبر پر پہنچ چکا ہے ۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ کرپشن کی روک تھام میں اینٹی کرپشن ،نیب ،ایف بی آر پبلک اکائونٹس کمیٹیوں سمیت تمام ادارے مکمل طور پر ناکام ہیں۔ لوٹی ہوئی دولت کا ایک ڈالر بھی قومی خزانے میں واپس نہیں آیا جبکہ قوم کو کبھی پانا ما لیکس کے ذریعے 436اور پنڈورا لیکس کے ذریعے 700سے زاید کرپٹ پاکستانیوں کے نام معلوم ہوتے ہیں۔ اب سوئس بینک کے اکاؤنٹس کی لیکس کے ذریعے 1400پاکستانیوں کے نام سامنے آنے کی بھی خبریں ہیں۔ ان افراد کے خلاف حکومت نیب یا کسی ادارے نے کوئی کارروائی نہیں کی جبکہ یہ صرف جماعت اسلامی ہے جس نے کرپشن فری پاکستان تحریک چلائی ۔ کرپشن کے خلاف ٹرین مارچ کیا ، دھرنے دیے۔ عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کرپٹ مافیا اتنا مضبوط ہے کہ اس نے اپنے خلاف عملاً کوئی کارروائی نہیں ہونے دی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی اللہ کاشکراداکرتی ہے اور قوم کو باور کرانا چاہتی ہے کہ اس کے کسی ایک فرد کے خلاف کرپشن کا کوئی جھوٹاالزام تک بھی موجود نہیں۔ بدترین معاشی صورت حال کمر توڑ مہنگائی ، مسلسل بڑھتی ہوئی بے روز گار ی ، غربت وبدحالی اور قرضوں کی بھرمار کابڑا سبب سودی معیشت ہے۔ سود کے خلاف اللہ اور رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے جبکہ حکمران قوم کو رزق حرام کھلانے اور سودی معیشت کو برقرار رکھنے پر بضد ہیں ۔ مختلف معاشی ماہرین کے مطابق قومی قرض 56ہزار ارب روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔جس میں سے 127ارب ڈالر کاغیر ملکی قرض شامل ہے ۔ یہ قرضے ہمارے جی ڈی پی کے 93.70فیصد کے برابر ہیں۔ اس سال کے بجٹ میں ہم نے قرضوں کے سود کے لیے اپنے عوام سے ریونیو اکٹھا کرکے 30035ارب روپے سود کی ادائیگی کی ہے۔آج پاکستان کابڑامسئلہ بدترین مہنگائی اور ظالمانہ کرپشن ہے۔ جماعت اسلامی نے حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے سودی معیشت آئی ایم ایف کی غلامی منی بجٹ ، اسٹیٹ بینک کی خود مختاری اور بدترین مہنگائی کے خلاف سینیٹ آف پاکستان اور قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مسلسل آواز اٹھائی ہے۔ اسی طرح محترم امیرجماعت اور دیگر قائدین اس معاشی غلامی کے خلاف سخت ترین بیانات دے رہے ہیں۔ نیز جماعت اسلامی ملک کے مختلف شہروں میں 101دھرنوں کے ذریعے دکھ کے مارے عوام کی آواز کو بلند کررہی ہے جبکہ ماضی میں برسراقتدار رہنے والی جماعتوں نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر آنے والے منی بجٹ کی منظوری اور اسٹیٹ بینک کی خودمختاری جیسے عالمی ایجنڈے میں حکومت کا ساتھ دیا ہے اور صرف جماعت اسلامی مخالفت کرتی رہی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان قوم کو یقین دلاتی ہے کہ اگر قوم اسے اپنے اعتماد سے نوازے تو وہ پوری یکسوئی اور محنت سے معیشت کو موجودہ دلدل سے نکال کر ترقی و استحکام کے راستے پر گامزن کرسکتی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے