کیف،ماسکو،نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک،خبر ایجنسیاں)کیف کی گلیوں میں لڑائی۔روس نے سلامتی کونسل کی قرار داد ویٹو کردی۔لڑنے کے لیے اسلحہ چاہیے،فرار کا راستہ نہیں،یوکرینی صدر نے امریکی پیشکش ٹھکرادی۔تفصیلات کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے دارلحکومت کیف پر چاروں طرف سے حملہ کردیا۔ شہرکے مختلف حصوں میں روسی اور یوکرینی فوج میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق روسی فوج نے چاروں طرف سے شہر پر حملہ کر دیا ہے۔ کیف کے شمال مغربی علاقوں میں فوجی بیس کے قریب شدید لڑائی جاری ہے۔ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی جھڑپیں جاری ہیں، کیف کے مرکز سے کچھ دور سے توپوں کے گرجنے کی آوازیں سنائی دیں۔ کیف کے چڑیا گھر اور شلیا ئوکا کے علاقے میں 50سے زائد دھماکوں اور گولہ باری کی اطلاعات ملیں، کیف کے علاقے ٹروئی شچینا کے پاور اسٹیشن پر روس نے 24گھنٹوں کے دوران دوسرا حملہ کیا ، یوکرین کی حکومت کی جانب سے دارالحکومت کیف کے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ۔مغربی میڈیا کے مطابق کیف کی گلیوں میں یوکرینی شہریوں نے بھی اپنی فوج کے ساتھ ملکر روسی فوج سے لڑائی شروع کردی ہے،یوکرین کے سابق صدر پیٹرو پوروشینکو نے براہ راست نشر ہونے والے انٹرویو میں کلاشنکوف لہراتے ہوئے کہا کہ اپنے وطن کے دفاع میں روس سے جنگ کو تیار ہوں۔اسی طرح یوکرین کی خاتون رکن اسمبلی کیرا روڈک نے بھی کلاشنکوف اٹھاکر خواتین کے جنگ میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی۔علاوہ ازیںبرطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کی فوج نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کیخلاف جنگ میں شریک 3500 روسی فوجیوں کوہلاک اور200 کوگرفتارکرلیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج نے اب تک روس کے 14 طیارے،8 ہیلی کاپٹرز مارگرائے جبکہ 102 ٹینک تباہ کردیے ہیں۔یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کیف کی سڑکوں پرلڑائی جاری ہے۔ کیف کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین پربحرہ احمر سے میزائل حملہ کیا گیا۔جبکہ یوکرین کے وزیر صحت وکٹر لیاشکو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ روسی حملہ آوروں کے ہاتھوں 3 بچوں سمیت 198 افراد ہلاک، 33 بچوں سمیت ایک ہزار 115 زخمی ہوچکے ہیں۔علاوہ ازیںروس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یوکرین کے خلاف جنگ روکنے کی قرار داد ویٹو کردی۔غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق قرار داد میں یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی مذمت کی گئی تھی اور فوجوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔سلامتی کونسل کے 15میں سے 11اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تاہم چین، بھارت اور متحدہ عرب امارات نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔اجلاس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیوگوٹریس نے کہا کہ روسی فوجیوں کو بیرکس میں واپس جاناچاہیے، امن کو ایک اور موقع دینا چاہیے، ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔رائے شماری کے بعد اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے چانگ جون نے کہا کہ اس وقت یوکرین کی جو صورتحال ہے، چین نہیں چاہتا کہ ایسی صورتِ حال ہو۔ چین کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ کسی بھی معاملے میں حقائق کی بنیاد پر اپنے موقف کا فیصلہ کیا جانا چاہیے، تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے اوراقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی مشترکہ پاسداری کی جانی چاہیے۔دریں ثناء یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے یوکرین سے انخلاء میں مدد کی امریکی پیشکش ٹھکرا دی ہے۔اس بات کا دعویٰ امریکی میڈیا کی جانب سے کیا گیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی انٹیلی جنس آفیسر نے بتایا ہے کہ امریکی حکومت نے صدر زیلنسکی کو کیف سے نکلنے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے امریکی پیشکش پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اینٹی ٹینک ہتھیاروں کی ضرورت ہے، کیف سے نکلنے کے لیے فلائٹ کی نہیں۔انہوں نے یورپی رہنمائوں پر واضح کیا کہ ممکن ہے کہ وہ انہیں آخری بار زندہ دیکھ رہے ہوں۔صدر زیلنسکی نے کیف میں اپنے ہاتھ سے بنائی ویڈیو جاری کر دی اور کہا وہ آخری وقت تک آزادی کا دفاع کریں گے۔اس سے پہلییوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے ترکی کی جانب سے روس کے جنگی بحری جہازوں کو بحیرہ اسود کا راستہ نہ دینے اور یوکرین کی عسکری اور انسانی امداد کرنے پر صدر رجب طیب اردوغان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ میں اپنے دوست اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان، اور ترکی کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انھوں نے کہا کہ یوکرین کے لوگ یہ کبھی نہیں بھولیں گے۔قبل ازیںامریکا نے یوکرین میں فوجی امداد بھجنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کی فوجی امداد کی مد میں 350 ملین ڈالر کا اضافی فوجی ساز و سامان بھیجیں گے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکانے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو 350 ملین ڈالر کا اضافی فوجی سازوسامان فراہم کر ے گا تاکہ وہ روس کے بلا اشتعال حملے کا مقابلہ کر سکے۔امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اس پیکج میں یوکرین کو بکتر بند گاڑیاں، ہوائی جہاز اور دیگر خطرات سے نمٹنے میں مدد کرنے کے لیے دفاعی امداد شامل ہوگی۔دوسری جانب یورپی ممالک کی جانب سے بھی روسی حملے کے بعد یوکرین کو عسکری امداد کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔نیدرلینڈکی جانب سے 200 طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جارہے ہیں اور اس حوالے سے ولندیزی حکومت نے جلد ازجلد میزائل فراہم کرنے کے لیے پارلیمنٹ کو خط لکھا ہے۔ایک اور یورپی ملک بیلجیئم نے 2 ہزار مشین گن اور ہزاروں ٹن فیول فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔فرانس نے بھی یوکرین کو دفاعی آلات کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے، فرانسیسی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ یوکرین کو دفاعی کے علاوہ روس کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے بھی ہتھیار فراہم کیے جارہے ہیں۔ادھر نیٹو چیف اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ یوکرین کے دفاع کیلیے پہلی بار نیٹو رسپانس فورس فعال کی ہے،جس کے لیے امریکا 6 ارب ڈالر مختص کریگا،یہ رسپانس فورس مشرقی یورپ میں تعینات ہوگی۔دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد ہزارہا افراد اپنی جانیں بچانے کے لیے راہِ فرار اختیار کر چکے ہیں۔ عالمی ادارے نے واضح کیا ہے کہ جنگ کے طول پکڑ جانے کی صورت میں یوکرینی مہاجرین کی تعداد چالیس لاکھ تک یا اس سے بھی زائد ہو سکتی ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے کی نائب کمشنر کیلی کلیمنٹس کا کہنا ہے کہ اب تک ایک لاکھ بیس ہزار یوکرائنی شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر مہاجرت اختیار کرتے ہوئے قریبی ممالک پہنچ چکے ہیں۔ امریکی نیوز ٹی وی چینل سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مقامی آبادیوں کا ان مہاجرین کے ساتھ سلوک مناسب اور قابلِ تعریف ہے۔ایران نے یوکرین پر روسی حملے کا ذمے دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا پر بھروسا کرکے سیکورٹی حاصل نہیں ہوسکتی۔، ایرانی حکومت کے ترجمان علی بہادری کا کہنا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔دوسری جانب ایرانی صدر ابراہیم ریئسی نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرق میں نیٹو فورسز کا دائرہ پھیلنا باعث تشویش ہے اور اسی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ایرانی صدر نے نیٹو کے توسیع پسندی کو خود مختار ممالک کی سیکورٹی اور نقص امن کیلیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ایران نے مغربی ممالک کو بحران زدہ یوکرین سے عبرت حاصل کرنے کا کہا ہے۔فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے خبردار کیا ہے کہ ماسکو کی جانب سے اپنے مغرب نواز پڑوسی پر حملے کے بعد دنیا کو روس اور یوکرین کے درمیان طویل جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔جرمن ٹی وی کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے ہفتے کے روز فرانس میں ایک سالانہ زرعی میلے سے خطاب کرتے ہوئے کہامیں آپ کو ایک بات بتا سکتا ہوں کہ یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ یہ بحران جاری رہے گا، یہ جنگ جاری رہے گی اور اس کے ساتھ آنے والے تمام بحرانوں کے دیرپا نتائج ہوں گے۔ ہمیں تیار رہنا چاہیے۔
