English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات کیے گئے ہیں، ڈبلیو ایچ او

القمر

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے ڈاکٹر پالیتھا مہیپالا نے ملک میں پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔

کنٹونمنٹ جنرل ہسپتال (سی جی ایچ) میں پولیو کے قطرے پلانے کی چار روزہ مہم کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے گئے ہیں اور اس کی وجہ سے گزشتہ سال پاکستان میں پولیو کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

اس موقعے پر ڈپٹی کمشنر طاہر فاروق، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر احسان غنی، راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کنٹونمنٹ (آر سی بی ) کے ایگزیکٹو آفیسر عمران گلزار نے بھی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے ڈاکٹر پالیتا مہیپالا نے پولیو ورکرز کے کردار کی تعریف کی اور والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں اور پولیو کے قطرے پلانے والوں کے ساتھ تعاون کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر خاندان کو چاہیے کہ وہ اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو اس بیماری سے بچاؤ کے قطرے پلائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو پولیو سے پاک ملک دیکھنا چاہتے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ مل کر بطور ٹیم کوششوں اور عوام کے مثبت رد عمل کے باعث پاکستان جلد پولیو فری ملک بن جائے گا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر طاہر فاروق نے بتایا کہ جنوری کے آخری ہفتے میں چار روزہ پولیو مہم کا آغاز کیا گیا تھا اور راولپنڈی کنٹونمنٹ اور اس کے گردونواح کے مختلف علاقوں کو کور کیا گیا تھا، انہوں نے صحافیوں کو مزید بتایا کہ یہ چار روزہ مہم پورے راولپنڈی ریجن کو کور کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران پنجاب میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور بلوچستان کے دور دراز علاقے میں صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

آر سی بی کنٹونمنٹ کے ایگزیکٹیو آفیسر عمران گلزار کا کہنا تھا کہ پولیو مہم کا آغاز پاکستان کے حفاظتی قطروں کے توسیعی پروگرام کے تحت کیا گیا تھا جس کا مقصد پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنانا ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان کو پولیو فری ملک بنانے کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا کیونکہ اس سلسلے میں ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں اور تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر احسان غنی نے بتایا کہ ضلعے میں پانچ روزہ انسداد پولیو مہم 28 فروری سے شروع ہوگی جس میں پانچ سال سے کم عمر کے 7 لاکھ 40 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اپریل 2021 سے راولپنڈی ضلع میں تمام ماحولیاتی نمونے ویکسینیشن مہم کی وجہ سے منفی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران ضلع کی سات تحصیلوں میں 4 ہزار 46 پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ 307 ٹیمیں مقررہ مقامات پر بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائیں گی جبکہ 147 ٹیمیں مختلف علاقوں جیسے بس اسٹینڈز، ریلوے اسٹیشنز اور دیگر مقامات پر اپنے فرائض سرانجام دیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ٹیموں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے گی جبکہ اس سے ٹیموں کو لوگوں کو ویکسینیشن کے بارے میں قائل کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ کوویڈ 19 کی ایس او پیز کی پابندی کرتے ہوئے ویکسین لگانے والا عملہ چہرے کے ماسک پہنے گا اور سینیٹائزر استعمال کرے گا۔

منبع: ڈان نیوز

The post پاکستان میں پولیو کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات کیے گئے ہیں، ڈبلیو ایچ او appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے