English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یوکرین کو امریکا نے خوفناک جنگ میں دھکیل دیا،غنویٰ بھٹو

القمر

جیکب آباد(نمائندہ جسارت) پاکستان پیپلز پارٹی بھٹو گروپ کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو نے یوکرین میں جاری جنگ کو سامراجی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے خوفناک جنگ میں دھکیل دیا ہے، یوکرین اور روس کے درمیان یہ معاہدہ تھا کہ یوکرین نیٹو کا حصہ نہیں ہوگا لیکن امریکا نے یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی جو سازش کی اس سے روس کے وجود کے لیے خطرات پیدا ہورہے تھے دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے پڑوس میں اپنے مخالف ملک کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایک طرف یوکرین کو جنگ میں دھکیلا ہے تو دوسری طرف امن کے گیت گانے میں مصروف ہیں۔ اپنے ایک بیان میں پیپلز پارٹی بھٹوگروپ کی چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکا اور اس کے اتحاد جس طرح روس کی جانب سے یوکرین پر حملہ کرنے پر واویلا کررہے ہیں کاش امن کا یہ اصول انہیں اس وقت بھی یاد رہتا جب امریکا نے ویتنام کو جنگ کی آگ میں جلانے کی کوشش کی تھی جب انہوں نے کوریا میں جنگ کراکے کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کیا، جب امریکا نے جھوٹ بول کر عراق پر حملہ کیا اور ایک تاریخی ملک کو جنگ کے میدان میں تبدیل کیا، امریکا کو یہ امن اس وقت کیوں یاد نہیں آیا جب لیبیا میں مداخلت کی گئی جب امریکا نے 20 سال تک افغانستان پر بم گرائے اور بعد میں شکست کھا کر بھاگ گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکا کے سامنے اپنے مفادات ہوتے ہیں تب وہ عالمی امن اور انسانیت کو بھول جاتا ہے متضاد معیارات کے ساتھ دنیا میں کبھی بھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پارٹی چیئرپرسن نے کہا کہ امریکا یوکرین کو یورپ کا شام بنانا چاہتا ہے، سازشی سیاست کے جو بیج امریکا نے بوئے ہیں اس کی زہریلی جڑیں اب پورے یورپ میں پھیل رہی ہیں، یوکرین صرف روس اور نیٹو کا معاملہ نہیں یوکرین کے معاملے پر دنیا کی پرامن عوام کو آگے آکر امن کا جھنڈا لہرانا ہوگا، انہوں نے کہا کہ ہم یوکرین میں جاری جنگ کی مذمت کرتے ہیں اور امن کی عالمی قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی پرامن جدوجہد سے اس جنگ کو امن میں تبدیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان اس وقت تاریخ کے دو راہے پر کھڑا ہے پاکستان کو اب بلاکس کی سیاست میں الجھ کر ریاست کا مزید نقصان کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے