ماسکو/منسک /کیف/ایتھنز (خبرایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) روس نے جوابی اقدام کرتے ہوئے 36 ممالک کواپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔روس کی جانب سے پابندی کا شکار ہونے والے ممالک میں برطانیہ، جرمنی، اٹلی ، اسپین اور کینیڈا سمیت دیگر شامل ہیں۔دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں یوکرینی وفد نے فوری سیز فائر کا مطالبہ کردیا۔روس اور یوکرین کے درمیان پانچویں روز بھی جنگ جاری رہی اور اس دوران کئی یوکرینی شہر روسی افواج کے محاصرے میں ہیں۔یوکرین کی جانب سے بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں مذاکرات سے انکار اور پھر آمادگی کے بعد پیر کو دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔بیلاروسی کے سرحدی علاقے گومیل میں ہونے والے مذاکرات میں یوکرینی وفد کی قیادت وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف کر رہے ہیں جبکہ یوکرینی صدر کے مشیر بھی شامل ہیں۔یوکرینی وفد فوجی ہیلی کاپٹر میں مذاکراتی مقام پر پہنچا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مذاکرات میں یوکرین نے روسی افواج کے فوری طور پر ملک سے نکلنے کا مطالبہ کیا۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یوکرینی وفد نے روس سے فوری طور پر سیز فائر کا بھی مطالبہ کیاتاہم مذاکرات کے حوالے سے اب تک کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی مذاکرات میں ہونے والی کوئی اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ علاوہ ازیں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ٹیلی فون پرگفتگوکرتے ہوئے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین کے لیے آئندہ 24 گھنٹے اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں یوکرینی اورروسی فوجیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے روسی حملے کے خلاف تاریخی مزاحمت پر یوکرینی صدر کے عزم وحوصلے کی تعریف کی۔ برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ برطانیہ اوراتحادی یوکرین کوہرقسم کی مدد فراہم کریں گے۔دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی صورتحال پرمستقل رابطے میں رہنے پراتفاق کیا۔ ادھریوکرین میں روس کے حملوں میں تیزی آگئی، کیف اور خارکیف کی گلیوں میں جنگ جاری ہے اور کئی گھنٹوں کے سکون کے بعد دھماکوں کی آوازیں دوبارہ سنی گئی ہیں، یوکرینی فضائیہ روسی فوج کے قافلوں پر ڈرون حملے کر رہی ہے۔یوکرینی فوج نے خارکیف کے مرکز پر حملے کو پسپا کر دیا، عوام بھی روس کے سامنے ڈٹ گئے، انسانی زنجیریں بنا کر روسی فوج کی پیش قدمی روکی۔ ایک کسان نے ٹریکٹر سے باندھ کر روسی ٹینک کو ہی چوری کرلیا،یوکرین نے روس کے 5300فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے۔یوکرین میں روسی بمباری سے 10یونانی شہری بھی ہلاک ہوگئے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یونانی حکومت نے اپنے ملک میں تعینات روسی سفیر کو طلب کرکے اپنے شہریوں کی ہلاکت پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے ملک پر بمباری میں روس کے ساتھ بیلا روس کو بھی برابر کا شریک ٹھہراتے ہوئے کہا کہ روس بیلاروس سے یوکرین پر میزائل حملے کر رہا ہے۔ دوسری جانب عالمی پابندیوں سے روسی معیشت کو دھچکا لگ گیا، بینکوں میں پیسے ختم جبکہ اے ٹی ایمز بھی خالی ہوگئیں۔ روسی روبل کی قدر 30 فیصد گرگئی، لوگوں کے احتجاج پر سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔ روسی ارب پتی افراد نے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ پیوٹن کے حامی میڈیا پرسن کے اثاثے سیل ہوئے تو انہوں نے بھی صدر کی مخالفت شروع کردی۔ ادھر امریکی میڈیا کا دعوی ہے کہ بیلا روس یوکرین میں اپنی فوجیں بھیجنے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
