کابل(اے پی پی)افغان حکومت نے بیرون ملک مشکلات سے بچانے کے لیے افغان شہریوں کے ملک چھوڑنے پر پابندی عاید کر دی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران افغان شہریوں پر نئی سفری پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس اقدام کا مقصد بیرون ملک افغان شہریوں کو مشکلات سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے خاندان جو اپنے کسی مقصد کے لیے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں اس کی وجہ بتانی ہو گی بصورت دیگر انہیں امیگریشن سے روک دیا جائے گاجبکہ خواتین کو بھی اکیلے سفر کرنے سے روکا جائے گا اور ان کے ساتھ مرد رشتے دار کا ہونا ضروری ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں کا اعلان بیرون ملک مقیم افغان شہریوں کے انتہائی برے حالات میں زندگی گزارنے سے متعلق اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے ، اپنے عوام کا تحفظ افغان حکومت کی ذمے داری ہے اور یہ پابندی اس وقت تک عاید رہے جب تک ہمیں افغان شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی ۔ دوسری جانب افغانستان میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے اغوا اور چوری میں ملوث جرائم پیشہ عناصر اور ہتھیاروں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ اس حوالے سے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ آپریشن کے دوران 2مغوی بچیوں کو بازیاب کرایا گیا جبکہ فوج اور حکومت سے منسلک گاڑیوں سمیت ہلکے اور بھاری ہتھیار، بارودی مواد، ریڈیو اور ڈرونز برآمد کیے گئے اور داعش سے تعلق رکھنے کے شبہ میں 6افراد، 9اغوا کار اور 53چور گرفتار کیے گئے۔
