نیو یارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ سفارتی ناکامی ہے، روس یوکرین تنازع عالمی معیشت کو متاثر کریگا۔
منیر اکرم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج دیکھا کہ بڑی بڑی طاقتوں کو 140 ووٹ لینے کے لیے کتنی کوشش کرنی پڑی، ہمارا موضوع یہ ہے کہ جنگ کو بند کرنا چاہیے، جنگ کو بند کرنے کے لیے خاموشی سے کام کرنے کی ضرورت ہے، روس یوکرین تنازع عالمی معیشت کو متاثر کریگا، جنگ کا خاتمہ بہتر ہوگا ایسی جنگوں سے چھوٹے ممالک کو زیادہ نقصان ہو تا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ روس یوکرین جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، اس لیے ووٹنگ میں سوچ سمجھ کر غیر جانبدار ی کا مظاہرہ کیا ہم جو کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اس میں ہمارا غیر جانبدار رہنا بہتر ہے، سلامتی کونسل اگر کوئی فیصلہ نہ کر پائے تو جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلایا جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان چاہتے ہیں جنگ کو جلد از جلد روکا جائے، وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ روس اور یوکرین کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، وزیر اعظم نے روسی صدرپیوٹن سے ملاقات میں جنگ بندی کرنے پر اپنا موقف پیش کیا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے روسی اور یوکرینی ہم منصب سے بھی جنگ بندی پر بات کی۔
صحافی کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق سوال کہ دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم نظر نہیں آرہے؟، کا جواب دیتے ہوئے منیر اکرم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے، ہماری کوشش ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر دنیا کا دہرا معیار ختم ہو مسئلہ کشمیر کو جنرل اسمبلی میں لے جاتے ہیں تو اس سے بہتر فیصلہ تو نہیں ملے گا، ہم چاہتے ہیں سلامتی کونسل قرارداد پر عمل درآمد کرائے، عمل درآمد سلامتی کونسل کرسکتی ہے، جنرل اسمبلی نہیں کرسکتی، ہم نے سوچ سمجھ کر مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں پیش کیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے قومی مفاد کے تحت فیصلہ کیا، ہم نے مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں پیش کیا، سلامتی کونسل کی قرارداد میں استصواب رائے اور حق خودارادیت کا کہا گیا ہے، اس سے بہتر فیصلہ کیا مل سکتا ہے۔

