English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

روس نے ایران جوہری معاہدے کی حمایت کرنے سے پہلے امریکا سے ضمانتیں مانگ لیں

القمر

یوکرین پر حملے کے بعد روس پر لگائی گئی سخت پابندیوں کے پیش نظر تجارتی اور کاروباری مفادات کے تحفظ کی کوشش میں روس نے ایران کے مجوزہ جوہری معاہدے کی حمایت کرنے سے پہلے امریکا سے ضمانتیں مانگ لیں۔

روس کی جانب سے ضمانتوں سے متعلق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے بیان نے تہران کے 2015 کے جوہری معاہدے کے جلد از جلد بحالی کے امکانات کم کردیے ہیں۔

روس کے اس اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ روسیوں نے یہ مطالبہ 2 روز پہلے ویانا مذاکرات میں رکھا، یہ واضح ہے کہ ویانا مذاکرات میں اپنی پوزیشن تبدیل کر کے روس دیگر معاملات میں اپنے مفادات کو محفوظ بنانا چاہتا ہے، یہ اقدام ویانا جوہری مذاکرات کے لیے معاون نہیں ہے۔

دریں اثنا ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تہران میں بات چیت کے بعد کہا کہ انہوں نے معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں کے لیے اہم مسائل کو حل کرنے کی حکمت عملی پر اتفاق کیا۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاروف نے کہا کہ جوہری مذاکرات میں بیشتر معاملات کا احاطہ کرلیا گیا ہے اور ہمارا نقطہ نظر ہے کہ اگر ایران راضی ہوتا ہے تو اس دستاویز کو قبولیت کے مرحلے میں داخل کیا جاسکتا ہے۔

البتہ انہوں نے مغربی ممالک کی جانب سے روس پر جارحانہ پابندیوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ماسکو کو پہلے امریکا سے ضمانتیں مانگنی ہوں گی، جس کے لیے واضح جواب کی ضرورت ہے کہ نئی پابندیاں جوہری معاہدے کے تحت اس کے حقوق کو متاثر نہیں کریں گے۔

انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ہم نے درخواست کی کہ ہمارے امریکی ساتھی ہمیں کم از کم سیکریٹری آف اسٹیٹ کی سطح پر تحریری ضمانتیں دیں کہ امریکا کی جانب سے شروع کیا گیا حالیہ پابندیوں کا عمل کسی بھی طرح سے ایران کے ساتھ ہماری آزاد تجارت، اقتصادی حقوق، سرمایہ کاری اور فوجی تکنیکی تعاون کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔

روس کی جانب سے جوہری معاہدے جوہری معاہدے کی حمایت کرنے سے پہلے امریکا سے ضمانتیں طلب کرنے کا بیان، ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان ایک معاہدے کے بارے میں اعلان سے کچھ دیر بعد ہی سامنے آیا جس نے ممکنہ طور پر اس امید کو ختم کر دیا کہ یہ معاہدہ جلد ہی مکمل ہو سکتا ہے۔

روس کے مطالبے سے تہران اور روس سمیت عالمی طاقتوں کے درمیان 11 ماہ کے مذاکرات کو نقصان پہنچنے کے امکان سے متعلق سوال پر انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں ایران کے پروجیکٹ ڈائریکٹر علی واعظ نے کہا ’ابھی تک نہیں، لیکن ان دونوں بحرانوں کو زیادہ دیر تک الگ کرنا ناممکن ہے۔‘

علی واعظ نے کہا کہ امریکا، روس کو اضافی فیزائل مٹیریل کی منتقلی سے متعلق کام کے لیے چھوٹ دے سکتا ہے لیکن یہ اس بات کی علامت ہے کہ دونوں معاملات کا ملاپ شروع ہو گیا ہے۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ایجنسی اور ایران کے پاس متعدد اہم معاملات تھے جن کو حل کرنے کی ہمیں ضرورت تھی لیکن انہوں نے اب ان پر قابو پانے کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایران کے جوہری توانائی کی تنظیم کے صدر محمد اسلامی نے کہا کہ دونوں فریق اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ 22 مئی تک آئی اے ای آئی اور ایرانی تنظیم کے درمیان کچھ ضروری دستاویزات کا تبادلہ ہونا چاہیے۔

تیل کی دولت سے مالا مال ایران نے رواں ہفتے کہا کہ اس سے قبل کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد پابندیوں کا نفاذ شروع ہو جائے، وہ اپنی خام برآمدات کو نومبر 2018 سے پہلے کی سطح تک بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

آئندہ چند روز کو بڑے پیمانے پر سمجھوتے کی بحالی پر بات چیت کے لیے ایک فیصلہ کن نقطے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے باضابطہ طور پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن یا جے سی پی او اے کہا جاتا ہے۔

برطانوی وفد کی سربراہ اسٹیفنی القاق نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مذاکرات کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم قریب ہیں، وزرا کو صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے ای-3 مذاکرات کار ویانا سے روانہ ہو رہے ہیں اور جلد واپس آئیں گے۔

معاہدے کی بحالی کے لیے آسٹریا کے دارالحکومت میں جاری مذاکرات میں برطانیہ، چین، فرانس اور جرمنی کے ساتھ روس فریق ہےہے، جس میں امریکا بالواسطہ شامل ہے۔

منبع: ڈان نیوز

The post روس نے ایران جوہری معاہدے کی حمایت کرنے سے پہلے امریکا سے ضمانتیں مانگ لیں appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے