کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے تحت شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم ، لوٹ مار کی وارداتوں میں معصوم لوگوں کے قتل ، پولیس کی نااہلی ،مجرموں کی سرپرستی کے خلاف اتوارکے روز شہر کے 50تھانوں کے باہر مظاہرے کیے گئے جس سے امراء اضلاع اور علاقوں کے ذمہ داران نے خطاب کیاجبکہ مرکزی مظاہرہ تھانہ نیو ٹاؤن کے باہر ہواجس سے امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن سکریٹری ضلع قائدین ولید احمد، ڈپٹی سکریٹریز بخت علی شاہ، نعمان حمید و دیگر نے بھی خطاب کیا۔مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے ہیں،شرکاء نے حکومت وپولیس کی ناقص کارکردگی کے خلاف زبردست نعرے لگائے،مظاہرے میں مردوخواتین سمیت بچوں نے بھی شرکت کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا،بینرزمیں پھلتا پھولتا اسٹریٹ کرائمز ذمہ دار کون؟، وزیر اعلی جواب دو، آئی جی سندھ جواب دو، ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائمز ختم کرو، کراچی کے عوام کو تحفظ دو، نااہل حکومت نااہل ادارہ سندھ پولیس، سندھ پولیس جرائم کی سرپرستی نہ کرے، کراچی کے عوام قاتلوں اور ڈکیتوں کے رحم و کرم پر کیوں؟تحریر تھا۔حافظ نعیم الرحمن نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج شہر بھر میں 50 سے زائد تھانوں کے باہر مظاہرے کیے جارہے ہیں،اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو کراچی کے تمام تھانوں،ایس ایس پی ، ڈی آئی جی آفیسز اور آئی جی آفس کے باہر احتجاج کیا جائے گا،کراچی کے عوام کی جان و مال کو کوئی تحفظ نہیں ہے،روزانہ کی بنیاد پر چھینا جھپٹی اور اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں ہورہی ہیں،واردات کرنے والوں کو معلوم ہے کہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے،ہمیں علم ہے کہ پولیس کی نفری کم ہے موبائل گاڑیاں کم ہیں لیکن علاقے میں منشیات فروشی اور جرائم کے اڈوںکا علم رکھنے کے باوجود کیوں اقدامات نہیں کیے جاتے،پولیس سب کچھ جانتے ہوئے بھی جرائم کے اڈوں کو کیوں ختم نہیں کرتی؟،ممکن نہیں ہے کہ پولیس کی ساز باز کے بغیر جرائم ہوںپولیس میں اچھے افراد بھی موجود ہیں لیکن کالی بھیڑیں زیادہ ہیں جس کی وجہ سے وارداتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جس علاقے میں قتل ہو اس علاقے کے تھانے دارکو اس کا ذمہ دار قراردیا جائے،پولیس کے اسپیشل یونٹ کی بڑی تعداد اعلی افسران کے پروٹوکول میں لگائی ہوئی ہے،وی آئی پی کے نام پر پولیس کی سیکورٹی ختم کرکے کراچی کے عوام کا تحفظ کیا جائے،حکمرانوں کو اپنی اور فیملی کی جان و مال کا تحفظ کا خیال تو ہے لیکن کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کا کوئی خیال نہیںہے،وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ہماری حکومت نے ریکارڈ ٹیکس وصول کیے ہیں ہم پوچھتے ہیں کہ جب یہ سارا ٹیکس کراچی کے عوام سے وصول ہوتا ہے لیکن انہیں تحفظ کیوں نہیں دیا جاتا،کراچی میں37ہزار پولیس 73ہزار پرائیوٹ گارڈز موجود ہیںلیکن عوام کو اپنی سیکورٹی کے لیے بھی پرائیوٹ گارڈ رکھنے پڑتے ہیں،کراچی کے عوام کا ٹیکس کہاں خرچ کیا جارہا ہے،میڈیا پر تماشہ ہورہا ہے انسانوں کی خریدو فروخت ہورہی ہے،پارلیمنٹ کو منڈی بنادیا گیا ہے،کراچی سے مینڈیٹ لینے والی پارٹیاں کہاں ہیں؟ کیوں اسٹریٹ کرائمز کے خلاف بات نہیں کرتی،پیپلز پارٹی سندھ میںامن و امان کو برقرار رکھنے کے بجائے پاکستان فتح کرنے کے لیے نکلی ہوئی ہے،جماعت اسلامی نے کراچی کے تمام دفاتر میں لیگل ایڈ سیل قائم کردیا ہے،کراچی کے عوام اگر پولیس ایف آئی آر نہیں کاٹتی تو وہ جماعت اسلامی کے دفاتر میں جائیں، جماعت اسلامی آئینی، جمہوری اور قانونی جدوجہد سے مسائل حل کروائے گی،جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی،اگر پولیس اور رینجرز کراچی کے عوام تحفظ فراہم نہیں کرے گی تو جماعت اسلامی علاقے کی سطح پرمحلہ کمیٹی کے دفاتر بنائے گی اور عوام اپنے مسئلے خود حل کرنے پر مجبور ہوں گے،آئی جی اور ڈی آئی جی سے کہنا چاہتے ہیں کہ عوام کو تحفظ فراہم کریں اگر ایسا نہ ہوا تو عوام اپنا تحفظ خود کریں گے پھر کسی کومسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔
