کراچی (رپورٹ + تصاویر: سید رضوان علی) کراچی میں واقع سرجانی ٹائون کا علاقہ یوسف گوٹھ 50 برس سے آباد ہے جو 80 ہزار افراد کی آ بادی پر مشتمل ہے‘ یہاںجگہ جگہ کوڑا کرکٹ اور غلاظت کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں‘ سیورج کے پانی کے باعث ہر گلی گندے تالاب کا منظر پیش کر رہی ہے جب کہ اٹھنے والے تعفن سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں‘ مچھروں اور مکھیوں کی افزائش سے بھی علاقے میں مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ روزنامہ ’’جسارت‘‘ سے گفتگو کے دوران اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، ا یڈمنسٹریٹر کراچی، مشیر قانون و ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور دیگر حکومتی رہنماؤں سے کئی بار اپیل کر چکے ہیں کہ نالے کی صفائی اور گٹر لائن کا مسئلہ عرصہ دراز سے التو کا شکار ہے جس کے حل کے لیے کئی بار درخواستیں دیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی‘ ہماری اپیل ہے کہ یہ مسائل فوری حل کیے جائیں ‘علاقے میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ہمیں پانی خرید نا یادور دراز سے پانی بھر بھر کے لانا پڑ تا ہے۔ اہل علاقہ نے بتایا کہ کمشنر کراچی کے ساتھ ہماری 10 میٹنگ ہوئیں لیکن کمشنر ہمارے بنیادی مسائل سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی یوتھ علاقہ یوسف گوٹھ سرجانی ٹائون کے صدر نعیم صدیقی، جنرل سیکرٹری محمد حسین، نائب صدر محمد شعیب اور محمد ساجد جنید نے ’’جسارت‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے تاہم سندھ حکومت نے اس علاقے کے مسائل حل کر نے کے لیے اقدامات نہیں کیے‘ سیوریج لائن کا پانی گھروں، سڑکوں اور گلیوں میں آنے کی وجہ سے علاقہ مکین محصور ہوکر رہ گئے ہیں‘ مکینوں بالخصوص نمازیوں اور اسکول جانے والے طلبہ و طالبات کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ پیٹ کے درد، ڈائریا، ڈینگی اور ملیریا جیسی دیگر بیماریاں و امراض پھلیل رہے ہیں اور گندے پانی کی بدبو سے علاقہ مکینوں کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ‘ سٹرکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور یہاں لوٹ مار کی وارداتوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیوریج لائنوں کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے پانی پینے کی لائنوں میں بھی گندا پانی شامل ہو گیا ہے ۔ علاقے رہائشیو ں نائلہ خاتون، اویس، حمید، شہباز، شہبانہ، احمد الدین، ابوبکر، احسن، خرم، اعظم، واسع، رئیس و دیگر نے ’’جسارت‘‘ کو بتایا کہ گھر وں کے اندرسیوریج کا پانی گھروں میں آنے کی وجہ سے فرنیچر اور دیگر قیمتی سامان خراب ہو گیا ہے ‘ دکاندار کا کاروبار بھی شدید متاثر ہے۔علاقے مکینوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے موجودہ ایم این اے آفتاب جہانگیراور ایم کیو ایم کے ایم پی اے عبدالباسط 2018ء ووٹ مانگنے آئے تھے، اس کے بعد انہیں حلقے میں نہیں د یکھااورآج تک یہ لوگ علاقے میںنظر نہیں آئے اور نہ ہی ان کے فنڈ سے آج تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ20، 25 برس قبل یہاں ہنر مند خواتین کے لیے ایک سرکاری سینٹر قائم کیا گیا تھا، جو کچھ ماہ بعد ہی بند کردیا گیا تھا اورآج وہ سینٹر منشیات کے عادی افراد کا مر کز اورکچرے کے ڈھیرمیں تبدیل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے بچوں اور خاص کر خواتین کا گھر سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے‘ آج سے ایک سال قبل جماعت اسلامی کے احتجاج کے نتیجے میں نالے کی تعمیر کے کام کا آغاز کیا گیا اور اب نالے کا کام بھی سست روی کا شکار ہو گیا ہے ، نالے کی کھدائی کے بعد لوگوں کو آنے جانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دن ڈہاڑے چوری، ڈکیتی، موبائل فون چھیننا معمول بن گیا ہے‘ پولیس کو کئی بار شکایت کی گئی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ مکینوں نے صدر پاکستان، وزیر اعظم، چیف جسٹس آف پاکستان، گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ سمیت دیگر سے اپیل کی ہے کہ ہمارے مسائل کا فوری نوٹس لے کر متعلقہ اداروں کو نکاسی و فراہمی آب کا نظام بہتر بنانے کی ہدایت کی جائے۔
