تحریر محمد امنان
ملکی سیاسی کا محور و مرکز آجکل شہر اقتدار بنا ہوا ہے اپوزیشن کی جانب سے پی ڈی ایم کے مشترکہ لانگ مارچ کی لانچنگ موخر کرنے کے بعد 8 مارچ کو اچانک مشترکہ طور پر قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں عدم اعتماد کی ریکوزیشن جمع کرا دی تھی اسی دن بلاول 9 دن کے سفر کے بعد عوامی مارچ کو لیکر اسلام آباد ڈی چوک کی جانب براستہ راولپنڈی روانہ تھے
تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے بعد ملکی سیاسی منظر نامہ شدید ارتعاش کا شکار ہو گیا تھا جو آج تک جاری ہے سیاسی جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرانے اور حکومتی جماعت کی جانب سے اس تحریک کی ناکامی کے دعوے روز سننے میں آ رہے ہیں
اسلام آباد میں تمام سیاسی جماعتوں کے بڑے ایک دوسرے سے ملنے ملانے میں مصروف ہیں ماضی میں ایک دوسرے کا چہرہ تک نہ دیکھنے والے سیاسی لیڈران بھی بغل گیر ہو رہے ہیں جبکہ کسی کے آگے نہ جھکنے کے دعویدار وزیر اعظم بھی کبھی ایم کیو ایم اور کبھی ق لیگ کے پیچھے پیچھے گھوم رہے ہیں
تقاریر کی بات کریں تو جارحانہ انداز دونوں جانب سے اپنایا جا رہا ہے بلکہ ترجمانوں مشیروں اور سیاسی حریفوں کی جانب سے بد قسمتی سے خواتین ماوں بہنوں کو بھی اس گندی سیاست میں زبردستی رگیدا جا رہا ہے
کہیں ہارس ٹریڈنگ کا شور ہے تو کہیں دعوی ہے کہ گنتی پوری ہے اب دن گنے جا چکے ماضی کے تلج پنوں کو کھنگالا جائے تو 1989 میں محترمہ بینظیر بھٹو اور 2006 میں شوکت عزیز کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں لائی گئیں مگر وہ کامیاب نہ ہو سکیں
بہر حال اس ساری صورتحال میں تصادم کا زبردست خطرہ پیدا ہوتا نظر آ رہا ہے وزیر داخلہ کی جانب سے عدم اعتماد کے دب پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ڈی چوک جمع ہونے کا حکمنامہ بذریعہ ٹوئٹر پہنچایا گیا یہاں تک کہ وزیر اعظم نے حریفوں کو للکار کر کہا تھا کہ اگر تم بیس ہزار بندے لیکر آو تے تو میں ایک لاکھ بندہ لیکر پہنچوں گا
اسکے بعد جے یو آئی ف نے عملی طور پر اپنی ذیلی تنظیم کے پانچوں سالاروں کو پارلیمنٹ لاجز بھجوا دیا جہاں وہ کیمپ لگائیں گے اور بقول انکے عدم اعتماد کے دن ووٹ ڈالنے والوں کی حفاظت انکے ذمہ ہو گی ڈسکہ الیکشن اور دیگر الیکشنز میں مغویوں کی صورتحال اور الیکشن کو رکوانے یا خراب کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے بظاہر یہ فیصلہ کیا گیا ہے
مگر صورتحال ممکنہ طور پر تصادم کی جانب جائے گی کارکنان آپس میں دست و گریباں ہوں گے جگ ہنسائی ہو گی آسٹریلین کرکٹ ٹیم بھی ملک میں موجود ہے جبکہ 22 اور 24 مارچ کو او آئی سی اجلاس بھی اسلام آباد میں ہو گا
وفاقی وزراء کی جانب سے ماضی کے تلخ واقعات جیسے میمو گیٹ سکینڈل اور ایبٹ آباد آپریشن جیسے حساس معاملات کو کسی کی ہمدردی حاصل کرنے کی غرض سے سرکاری ٹی وی چینل پر نشر کر دیا گیا یہ وہ معاملات تھے جن کو لیکر پورے میڈیا پر پابندی تھی لیکن کئی سالوں بعد حکومتی سرپرستی میں ان معاملات کو تمام میڈیا چینلز پر دکھایا گیا
دوسری جانب سیاسی حریفوں نے بھی اسی طرح کا رد عمل دیا اور ایک پریس کانفرنس کی گئی جس میں یہ تمام الزام جو حکومت نے اپوزیشن پر بیرونی طاقتوں پہ اشاروں پہ چلنے کے لگائے حکومت پر لگائے گئے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے تو اسرائیل اور بھارت سے فنڈنگ لیکر پارٹی چلانے کا الزام عمران خان پر لگایا گیا
صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے ہونے کو کچھ بھی ہو سکتا ہے سیاسی بساط کس کے نام ہو گی یہ تو بعد کی بات ہے فی الحال جو ماحول بنا ہوا ہے اسمیں ایک ہلکی سی چنگاری پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے کافی ہو گی
اس سیاسی دنگل میں اخلاقیات کی تمام حدیں عبور کی جا رہی ہیں دونوں جانب سے پورا زور لگا کر کرسی کو اپنے قابو میں کرنے کی کوششیں جاری ہیں
گذارش بس اتنی ہے کہ اس کھیل کھیل میں اگر خدانخواستہ تصادم ہو گیا تو نقصان عوام اور ملک کا ہو گا سیاستدان اور موجودہ حکومت تو پھر سے الزامات کا کھیل کھیل کر عوام کو اپنی بیچارگی دکھائیں گے
لہذا ہوش کیجئے اور معاملہ جمہوری انداز میں نمٹنے دیجئے
