اسلام آباد( آن لائن+صباح نیوز)اسلام آباد پولیس نے جمعیت علمائے اسلام کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کے 48 کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔مقدمہ کار سرکار میں مداخلت اور دفعہ 144کی خلاف ورزی کی دفعات کے تحت درج ہوا ہے جس میں18معلوم جبکہ 25سے 30 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ کے متن میں کہا گیا ہے 40 سے 50رضاکارپارلیمنٹ لاجز کے سامنے سیکورٹی مشقیں کرتے رہے۔ رضا کار لاجز کی راہدری اور ایم این اے کے کمرے میں موجود تھے اورلاجز کی سیکورٹی تقریباً غیر موثر ہو چکی تھی ۔ متن میں کہا گیا ہے کہ گرفتاریوں کے دوران ملزمان نے سرکاری گاڑی کے شیشے توڑے، راستہ روکا گیا اورگاڑی کے ٹائر سے ہوا نکالی گئی ۔ علاوہ ازیں پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن کے بعد گرفتار کیے گئے جے یو آئی کے تمام کارکنوں کو شخصی ضمانت اور مچلکوں پر رہا کردیاگیا،رہائی کے بعد جے یوآئی( ف) کے کارکن اور دونوں ایم این ایز تھانہ آبپارہ سے روانہ ہو گئے۔ جے یو آئی(ف) ترجمان اسلم غوری نے کہا ہے کہ قیادت کی مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا،جے یو آئی کے گرفتار ایم این ایز اور رضاکاروں کو رہا کر دیا گیا، تمام کارکنوں کو مبارکباد اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)میں شامل تمام جماعتوں اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین وکارکنان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
