ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں قائم بخاطرگروپ نے تیونس میں 5ارب ڈالرمالیت کے رئیل اسٹیٹ منصوبے کا اعلان کردیا۔ گروپ کے ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں فوری طور پر کام شروع کیا جارہا ہے۔ یہ 2011ء کے انقلاب کے بعد شمالی افریقی ملک میں پہلا بڑا منصوبہ ہے۔تیونس اپنی معیشت کو فروغ دینے کے لیے غیرملکی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ ملکی معیشت برسوں سے جمود کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ کوروناوائرس کی وبا اور ملک میں جاری سیاسی ہلچل کی وجہ سے حالت مزید ابترہوگئی ہے۔ تیونس کے سرکاری ذرائع کے مطابق بخاطرگروپ نے ماضی میں ایک منصوبے پر کام شروع کیا تھا،تاہم اسے اسے عرب بہارکے بعد روک دیا گیا تھا۔یاد رہ کہ 2011ء میں مظاہروں کے باعث سابق صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔
