English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا یوکرین تصادم مشرقی یورپ تک پھیل سکتا ہے ؟ شفقنا بین الاقوامی

القمر
پہلی جنگ عظیم، بوسنیا اور ہرزوگووینا کے دارلخلافہ سراجیوو میں آسٹریائی ھنگری تخت کے وارث کے قتل کے بعد شروع ہوئی۔ اس کو ایک بوسنیائی سرب قاتل نے قتل کیا تھا جو کہ ‘پان سلاوی ‘ خفیہ تنظیم کا حصہ تھا جس کی پان سلاوی ازم پرانے محافظ روس کے ساتھ مبینہ روابط تھے۔دو عشرے بعد دوسری جنگ عظیم اس وقت شروع ہوئی جب نازی جرمنی نے 1939 میں پولینڈ پر قبضہ کر لیا تھا ۔ سوویت یونین نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس وقت کے مشرقی پولینڈ پر حملہ کر دیا جو اس وقت مغربی یوکرین کا حصہ ہے۔جنگ بھڑکانے کا سبب بننے ولے دونوں مقامات بدقسمتی سے مشرقی یورپ میں تھے۔اب ہم تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر، یہ خطہ یوکرین اور روس کے درمیان مہلک جنگ کی زد میں ہے جس میں بہت بڑے جیو پولیٹیکل مفادات داؤ پر لگے ہیں ۔
روس کا مقصد یہ ہےکہ مشرقی یورپ میں نیٹو کےاثرورسوخ کا توڑ کیا جائے اور امریکہ کی رہنمائی میں بنے ہوئے اس اتحاد کو اپنی دہلیز سے پرے دھکیل دے۔سربیائی سماج میں جذبات عروج پر ہیں ۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد سربیا میں روس کے حق میں مظاہرے ہوئے جو بوسنیائی اور دوسری بلقانی اقوام کے لیے ایک انتباہ ہے کہ جاری جنگ مشرقی یورپ کے دوسرے حصوں تک پھیل کر ایک نئی عالمی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔موجودہ جنگ کے بارے میں ٹی آر ٹی ورلڈ نے، ایک ممتاز بوسنیائی سیاستدان اور بوسنیا اور ہرزیگووینا کی ثلاثی صدارت کے ممبر شفیق ظفرووچ سےبات کی ۔

 کیا یوکرین کی جنگ بلقان تک پھیل سکتی ہے ؟

شفیق ظفرووچ: بلقانی روس کے اس قد ر قریب نہیں ہیں جس قدر یوکرینی ہیں لہٰذا کسی ایسے امکان کی توقع نہیں ۔ روس او ر ہمارے درمیان نیٹو کا خلا ہے ۔ بہر حال ، اگر چہ روس مغربی بلقان تک نہیں پہنچتا تو ایک یقینی خطرہ موجود ہے۔ دسمبر 2021 میں، روس میں پیوٹن سے ملاقات کے چھ روز بعد ، میلوراڈ ڈوڈک ( ایک ماہر بوسنیائی سرب لیڈر اور بوسنیائی پریزیڈینسی کے ایک اور ممبر)نے بوسنیا اور ہرزیگووینا کے آئینی مراتب پر حملہ شروع کر دیا ۔

ڈوڈک ہمیں 1995 تک لے جانا چاہتا ہے جب بوسنیا اور ہرزیگووینا میں ہر کوئی ایک دوسرے کو بندوقوں کے عدسے میں سے دیکھ رہے تھے۔ یہ خطرناک ہے ، او ر اسے روکنا چاہیئے ۔ نیٹو اور یورپی یونین کی یہ بنیادی زمہ داری ہے کہ اس خطرنا ک پیش رفت کو روکیں ۔ بوسنیائیوں کا جنگ کے بارے کیا نقطہ نظر ہے ؟ بوسنیاکوں ، بوسنیائیوں ، سربوں اور اور کروشیائیوں کے درمیان جنگ کے بارے نقطہ نظر میں کیا اختلاف ہے ؟

 بوسنیا اور ہرزیگووینا کے لوگوں کی ہمدردیاں یوکرین کے ساتھ ہیں۔ صرف سرب لیڈر میلوراڈ ڈوڈک نے نے یو-این میں، بوسنیا اور ہرزیگووینا کی روسی جارحیت کے خلاف مذمت کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا ۔
وہ کیف میں اپنی زندگی کی جنگ لڑنے والوں کو ‘ مسلح گروہ ‘ کہتا ہے۔ اسی لمحے وہ بار بار روسی حملے کے بارے میں اپنی فہم و فراست کا بھی زکر کرتا ہے۔ حتٰی کہ اگر اس کےبارے میں کوئی غلط فہمی تھی بھی تو یورو-اٹلانٹک برادری کو اب واضح ہو جانا چاہیے کہ جب بات ڈوڈک کی ہوتو کون اس معاملے میں شریک ہے۔

جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم دونوں مشرقی یورپ سے شروع ہوئیں جہاں یوکرین واقع ہے۔ کیا تیسری عالمی جنگ یوکرین سے شروع ہو سکتی ہے؟

اس قدرسنگینی اور ایسے شریک کاروں کے ساتھ ہونے والا تصادم پورے یورپ ،حتٰی کہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کے پاس پریشان ہونے کے لیے مضبوط وجہ موجود ہے۔ تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ بلقان اور اس سے آگے تک مشرقی یورپ میں، تصادم کے تیزی سے پھیلنے کا امکان ہے۔1990 میں ،عالمی برادری کی مفعولیت کی وجہ سے سابقہ یوگوسلاوی ممالک تک جنگ پھیل گئی تھی ۔ بوسنیا ، ہرزیگووینا او ر کوسووو کی جنگ کو صرف نیٹو کی مدد سے روکا جا سکا تھا۔ اگراب نیٹو یوکرین تصادم میں غیر فعال حالت میں رہتا ہے تو جنگ پھیل سکتی ہے۔

The post کیا یوکرین تصادم مشرقی یورپ تک پھیل سکتا ہے ؟ شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے