سری نگر (اے پی پی) بھارتی فوج نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں بدھ کو سری نگر میں مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض فوج نے نوجوانوں کو سری نگر کے علاقے نوگام میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔ نوجوانوں کی شہادت کے بعد نوگام میں زبردست بھارت مخالف مظاہرے ہوئے۔ بھارتی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ مظاہرین نے”ہم کیا چاہتے ہیں، آزادی” اور” گو انڈیا گو بیک” کے نعرے لگائے۔قابض حکام نے بانہال سے بارہمولہ تک ٹرین سروس معطل کر دی۔ غیر قانونی طور پر نظر بند کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے سری نگر میں ایک بیان میں بھارتی حکام کی طرف سے معروف صحافی فہد شاہ پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیری صحافیوں کو حقائق لکھنے پر مودی حکومت ہراساں کر رہی ہے۔ ایک اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی نے بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ دریں اثنا بھارتی پارلیمنٹ میں نیشنل کانفرنس کے رکن حسنین مسعودی نے بھارتی وزیر خزانہ کی طرف سے پیش کردہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی حکومت کی جانب سے حالات معمول پر آنے کے دعوئوں کی نفی ہوتی ہے۔ اس موقع پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے سوال اٹھایا کہ بھارتی پارلیمنٹ جموں و کشمیر کا بجٹ کیسے پاس کر سکتی ہے؟
The post بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا وحشیانہ استعمال ،مزید 3 نوجوان شہید appeared first on Daily Jasarat News.
