کراچی (رپورٹ : قاضی جاوید) بھارتی ریاستی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی سے مسلمانوں کے لیے مسائل بڑھیں گے‘ وزیراعظم مودی عوام کو اکھٹا کرنے کے بجائے مذہبی گروہوں میں تقسیم کر رہے ہیں‘ بی جے پی بھارتی تاریخ بدل رہی ہے‘ مسلم سیاسی رہنمائوں کو بے وقعت کر دیا گیاہے‘ الیکشن 2024ء میں بھارتی مسلمانوں نے سیکولر امیدواروں کو ووٹ دیے تو بی جے پی کو نقصان پہنچے گا۔ان خیالات کا اظہا رسابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر،سیاسی بیداری کے لیے سرگرم تنظیم مسلم پولیٹیکل کاؤنسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی اور نئی دہلی میں واقع تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) کے چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ’’بھارت کے ریاستی انتخابات میں بی جے پی کی نمایاں کامیابی کا مفہوم کیا ہے؟‘‘ حنا ربانی کھر نے کہا کہ وہاں پاگل پن کا غرورعروج پر ہے اور اس کے بر عکس مسلمان ابھی بھی خانوں میں بٹے ہو ئے ہیں‘ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو بلاشبہ یقین رکھتے ہیں کہ خواہ آپ کا دشمن پاگل پن کے راستے پر ہی کیوں نہ ہو‘ آپ کو ہر قسم کے بحران سے نکلنے کے لیے مذاکرات کے راستے پر چلنے کی اپنی پیشکش پر ڈٹے رہنا چاہیے لیکن وزیراعظم مودی کی موجودگی میں کسی بھی مثبت پہلو کے پیدا ہونے کی امید رکھنا درست نہیں اور بدترین صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔’’براہموس میزائیل‘‘ جیسے کسی تحفے کے انتظارکی نہیں بلکہ اس طرح کے حملے سے نمٹنے کی تیا ری کرنے کی ضرورت ہے‘ بھارت کی جانب سے مثبت سمت میں پیش رفت کی امید درحقیقت اس ماحول سے بے خبری ہے جس میں آپ اس وقت زندگی گزار رہے ہیں‘ وزیراعظم مودی اپنے فائدے کے لیے اپنے ملک کو لمبے عرصے تک تکلیف میں ڈال سکتے ہیں‘ بھارت کی قیادت ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو عوام کو اکھٹا کرنے کے بجائے انہیں ٹکڑوں یا مذہبی گروہوں میں تقسیم کر رہا ہے‘ میں سمجھتی ہوں کہ وزیراعظم مودی تیزی کے ساتھ کئی دہائیوں پر مشتمل اس کام کو ختم کر رہے ہیں جو گاندھی، نہرو، اندرا گاندھی اور منموہن سنگھ نے بھارت کو روشن مثال بنانے کے لیے کیا تھا‘ ان رہنماؤں نے آئین کو سنجیدگی کے ساتھ لیا تھا‘ ریاستی انتخابات میں بی جے پی کی نمایاں کامیابی کا مفہوم یہی ہے کہ حالات بہتری کی جانب نہیں بڑھیں گے‘ نتائج تبدیل نہیں ہوں گے کیونکہ بھارت میں وہ ہے جسے میں ’’ڈیوائڈر ان چیف‘‘ سمجھتی ہوں۔ ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی نے کہا کہ5 ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے بھارتی جمہوریت اور سیاست کا مستقبل طے کردیا ہے‘ اترپردیش کے انتخابات کو بھارتی مسلمانوں کی سیاسی فراست کا امتحان قرار دیا جا رہا تھا‘ بھارت میں انتخابی سیاست کا ماحول گرم ہوا لیکن مسلمانوں کی توقع کے خلاف فیصلہ آیا‘ فروری میں بھارت کی 5 ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، گوا اور منی پور میں اسمبلی کے انتخابات ہوئے‘ ان میں پنجاب کو چھوڑ کر بقیہ 4 ریاستوں میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت تھی ‘ ریاستی انتخابات میں بی جے پی کی نمایاں کامیابی کا مفہوم یہی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے مسائل بڑھ جائیں گئے ‘ 2014ء کے عام انتخابات میں نریندر مودی کے وزرات عظمیٰ پر فائز ہونے اور اس کے بعد سے ہی بھارت کی دوسری سب سے بڑی اکثریت مسلمانوں کو سیاسی لحاظ سے بے وقعت کرنے کی منظم کوششیں جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم دانشور اس سے متفق نہیں ہیں کہ مسلمانوں کے ووٹ بے معنی ہوگئے یا کردیے گئے ہیں تاہم وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مسلم سیاسی رہنمائوں کو بے وقعت ضرور کر دیا گیا ہے۔ اس کے لیے وہ بی جے پی کے بجائے نام نہاد سیکولر جماعتوں کو اصل ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہی ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہا کہ بی جے پی ملک کی تاریخ ہی تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہیں وہ آخر مسلمانوں کو اہمیت کیونکر دینا چاہیے گی‘ اس کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کا بھارت میں مستقبل مزید خراب اور تاریک ہو گا‘ مسلمانوں کو پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کس امیدوار میں جیتنے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہے اور وہ بھارتی دستور کی حفاظت اور ملک کی ترقی کے حوالے سے کتنا ایماندار ہے‘ پھر ایسے امیدوار کے حق میں ووٹ دینا چاہیے‘ ایسے امیدوار جو نامناسب ہوں‘ان کے خلاف عوامی بیداری پیداہونا چاہیے‘ بھارتی انتخابات مسلمانو ں کی ذہانت اور فراست کا امتحان ہے‘ 2024ء میں مسلمانوں نے ذہانت کا ثبوت دے دیا تو بی جے پی کے لیے معاملہ پلٹ جائے گا۔ اترپردیش اسمبلی کی 403 نشستیں ہیں ان میں سے تقریباً 140 حلقوں میں مسلم ووٹروں کی تعداد 20 فیصد سے 70 فیصد تک ہے لیکن اس کے باوجود بیشتر نشستوں پر سیکولر امیدواروں کے بجائے بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔مسلم پولیٹیکل کائونسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر رحمانی کا مشورہ ہے کہ کسی ایک سیاسی جماعت کی ریاست گیر سطح پر حمایت نہ کی جائے بلکہ سیکولر جماعتوں کے امیدواروں کی حمایت کی جائے‘ این جی اوز اور پریشر گروپوں کے ایسے امیدواروں کے حق میں مہم چلانی چاہیے‘ صرف یوپی میں ہی ایسی 140سیٹوں پر اس طرح کی مہم چلائی جاسکتی ہے۔
