
اسلام آباد(صباح نیوز+آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ سے عالمی طاقتیں حکومتوں پر اثرانداز ہوتی آئی ہیں، میں نے قوم سے وعدہ کیا ہے کہ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا، تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی،بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین نے رابطے شروع کردیے ہیں، جلد بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین کی واپسی ہوگی، ایک دو روز میں تمام تر صورتحال واضح ہوجائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کوسیاسی کمیٹی اور ترجمانوں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر ترجمانوں کو بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق شرکاء کو خفیہ خط کے حوالے سے وزیراعظم کی جانب سے بتایا گیا کہ چیف جسٹس کو خط دکھانے کا مقصد خط کی حقیقت کو آشکار کرنا ہے، خط میں دھمکی دی گئی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں، عمران خان نے کہا کہ غیر ملکی مداخلت سے پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے ،تمام اراکین اور عوام کو اس سے متعلق اعتماد میں لیا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ خط سب سے بڑے ادارے کے سربراہ چیف جسٹس کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کرتے ہیں، خارجہ پالیسی کے پیش نظر خط زیادہ لوگوں کے ساتھ شیئرنہیں کرسکتے، پارلیمنٹ میں خط اس لیے پیش نہیں کر سکتے کیونکہ اپوزیشن نے اسپیکر پر جانبداری کا الزام لگایا ہوا ہے ،7 مارچ کو ہمیں خط موصول ہوا، خط کا براہ راست تحریک عدم اعتماد کا ذکر ہے، جیسے ہی ہمیں خط ملا، تحریک عدم اعتماد فورا پیش ہوگئی۔ وزیراعظم نے پرویزالٰہی کی وزیراعلیٰ نامزدگی پر شرکاء کو اعتماد میں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ق لیگ کو وزارت اعلیٰ دینے کا فیصلہ سوچ سمجھ کرکیا، بڑے مقصد کے حصول کے لیے مشکل اور بڑے فیصلے کرنے پڑتے ہیں، کچھ لوگ ذاتی مفاد کے لیے ضمیر فروش بن جاتے ہیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے اپنے ارکان اسمبلی کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن اسمبلی اجلاس میں نہ جانے کی ہدایت کردی۔وزیراعظم نے بطور پارٹی چیئرمین تحریری ہدایت میں ارکان اسمبلی کو کہا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن کوئی رکن قومی اسمبلی ااجلاس میں نہ آئے ، کوئی رکن پارٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی نہیں کرے گا، انہوں نے انتباہ کیا کہ مذکورہ ہدایات کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 63 اے کا اطلاق ہوگا۔ مزید برآں سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور پارٹی عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جب حکمرانوں کی نیت صاف ہو تو چاہے کتنی ہی بڑی اندرونی یا بیرونی سازش ہو ناکام ہوتی ہے،پیسوں سے عوامی اجتماع نہیں بھرتے، جب قوم ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے نکلتی ہے تو عوامی اجتماع امر بالمعروف جیسے ہوتے ہیں۔ ملاقات میں شرکا نے وزیرِ اعظم کی قیادت پر مکمل اعتماد کا ظہار کیا۔ قبل ازیںوفاقی وزیر اسد عمر نے وفاقی وزیراطلاعات فوادچودھری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جان کو خطرہ ہے، انہیں جو دھمکی آمیز خط بھیجا گیا ہے اس کے مرکزی کردار نواز شریف ہیں، کسی کو شک ہے تو وزیراعظم یہ خط چیف جسٹس کو دکھانے کے لیے تیار ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ میں اس خط کو دیکھ چکا ہوں یہ حقیقت ہے، مراسلے میں دو ٹوک الفاظ میں لکھا ہوا ہے کہ اگر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں ہوئی تو اس کے خوف ناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، کچھ قانونی بندشیں ہوتی ہیں اس لیے یہ مراسلہ صرف اعلیٰ فوج قیادت کو دکھایا گیا اور وفاقی کابینہ کے بھی چند اہم وزرا کو بھی اس کا پتا ہے، مراسلے میں براہ راست پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ذکر ہے، تحریک عدم اعتماد اور بیرونی ہاتھ آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان وزیراعظم نہ رہیں تو بہتر ہے۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی سینئر قیادت بھی غافل نہیں ہے کہ وہ کہتے رہے ہیں کہ سارے معاملات طے پاگئے ہیں کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ مراسلے میں کیا لکھا ہے، وزیراعظم عوام سے منتخب ہوئے اور عوام کو جواب دہ ہیں اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ مراسلے سے متعلق عوام کو ایک حد تک بتایا جائے کیوں کہ بہرحال مراسلہ ایک قومی راز ہے اور اس خط کا تعلق براہ راست ہماری خارجہ پالیسی سے ہے۔انہوں نے کہا کہ اس خط کے مرکزی کردار نواز شریف ہیں کیوں کہ وہ باہر بیٹھے ہیں اور کون کون سی غیر ملکی ایجنسیوں کیساتھ ان کی ملاقاتیں ہوئی ہیں وہ جانتے ہیں۔فواد چودھری نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ نواز شریف کو باہر جانے نہ دیں ایسے لوگ باہر جاکر عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں، خط کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے کہ آپ کی سیاست آپ کو کس جگہ لے جائے گی۔
