یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس پر عائد پابندیوں کو مزید سخت بنانے اوران پر فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
زیلنسکی نے قوم سے خطاب میں کہا کہ اگر یہ پابندیاں نرم یا ناکام ہوئیں تو روس زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جس کا خمیازہ یوکرینی عوام کو بھگتنا ہوگا۔
یوکرینی صدر نے بتایا کہ دوران ہفتہ یوکرینی اور عالمی ماہر ین پر مشتمل ایک گروپ روس پر عائد پابندیوں کے اثرات کا پتہ لگانے کےلیے میرے دفتر میں کام کا آغاز کرے گا، یہ پابندیاں حصول مقاصد کے تحت عائد ہونی چاہیئے تاکہ روس ان سے بچنے کی کوشش نہ کر سکے،ہمارے اہداف کا ایک جمہوریت پسند دنیا سے ہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ روس کے خلاف غیر فعال پابندیاں ناقابل قبول ہونگی کیونکہ ماضی میں اس قسم کی پابندیاں غیر موثر ثابت ہوئیں اور روس نے ہم پر حملہ کر دیا،اس وقت کیمیائی اسلحے کے ممکنہ استعمال کی صورت میں روسی تیل کی یورپ رسائی کو روکنے سے متعلق بعض حلقوں میں اختلافات موجود ہیں جو کہ میرے نزدیک ناقابل فہم بھی ہیں،ہم روس کی جانب سے کیمیائی اسلحے کے استعمال کا انتظار نہیں کر سکتے، روس نے اس سے پیشر ہم پر فاسفورس بموں کا استعمال کیا ،ہماری جوہری تنصیبات کو تباہ کیا جس کے تناظر میں اس پر سخت پابندیوں کا نفاذ ضروری ہے،اگر یہ پابندیاں کمزور رہیں تو روس مزید خطرناک ثابت ہوگا جس کا خمیازہ ہمیں اور ہماری عوام کو بھگتنا پڑے گا۔
علاوہ ازیں زیلنسکی نے اِرپن شہر کو آزاد کروانےکی کوششوں میں شامل تمام عناصر کا شکریہ ادا کیا،دوسری جانب انہوں نے روسی فوج کی کیف کی جانب پیش قدم کو روکنے کے حوالے سے بتایا کہ آزاد شدہ علاقے تا حال محفوظ نہیں ہیں ،جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور روسی فوج صوبے کے شمالی علاقوں پر تاحال قابض ہے جن کی آزادی کے لیے ہماری فوج بر سر پیکار ہے ۔
