روسی صدارتی دفتر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یہ ایک مثبت عنصر ہے کہ یوکرین اپنی تجاویز کو ٹھوس شکل دے رہا ہے۔
دارالحکومت ماسکو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پیسکوف نے گزشتہ روز استنبول میں روسی اور یوکرینی وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات اور ایجنڈے میں شامل دیگر امور کے بارے میں اپنے جائزے پیش کیے۔
پیسکوف نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے قونصلر ولادیمیر میدنسکی، جنہوں نے مذاکرات میں روسی وفد کی سربراہی کی، آج ان مذاکرات کے بارے میں تفصیلی معلومات دیں گے۔
"یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کہ یوکرین نے کم از کم اپنی تجاویز کو ٹھوس طریقے سے مرتب کیا ہے اور انہیں تحریری شکل دینی شروع کر دی ہے۔ ابھی تک ہم یہ کام نہیں کر سکے تھے یہ ایک مثبت پہلو ہے۔”
پیسکوف نے کہا کہ وہ مذاکرات کے نتائج پر کوئی بہت امید افزا تبصرہ نہیں کر سکتے۔
یہ ایک اہم موڑ ہے، ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔”
پیسکوف نے مغربی ممالک کو قدرتی گیس کی برآمدات کے لیے روبل میں ادائیگی کے لیے روس کی منتقلی کے عمل کا بھی جائزہ لیا۔
"ادائیگی اور گیس کی ترسیل ایک وقت طلب عمل ہے۔ پوتن کی طرف سے روبل ادائیگی کے نظام کے تعین کے لیے مقرر کردہ آخری تاریخ 31 مارچ کو ختم ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ترسیل کل کی جائے گی اور کل شام کو ہی روبل میں ادائیگی ہو جائے گی۔
انہوں نے اس طرف اشارہ دیا کہ روس برآمدات میں مختلف مصنوعات کے لیے روبل کی ادائیگی کے نظام کو اپنا سکتا ہے۔
"قومی کرنسیوں کے استعمال کو بڑھانا ایک ایسا کام ہے جس پر ہماری حکومت بھی کام کر رہی ہے۔ یہ عمل ہمارے اور ہمارے شراکت داروں کے مفادات میں ہو گا۔
