روس صدارتی دفتر ‘کریملن’ کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ امریکہ کریملن میکانزم کو سمجھ نہیں سکا اور ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کے بُرے نتائج نکل سکتے ہیں۔
پیسکوف نے دارالحکومت ماسکو میں اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں، صدر پوتن کو غلط سمت میں دِکھائے جانے سے متعلق، وائٹ ہاوس کے دعووں اور ایجنڈے کے دیگر موضوعات کا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ "امریکہ کے پاس کریملن کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں ہیں۔ امریکہ وزارت خارجہ اور پینٹاگون، پوتن کو، ان کے فیصلہ میکانزم کو اور کام کرنے کے طریقے کو سمجھ نہیں پا رہے”۔
پیسکوف نے کہا ہے کہ ” ہم اس صورتحال پر اندیشے محسوس کر رہے ہیں کیونکہ اس نوعیت کی سراسر غلطی فہمی ایسے غیر محتاط فیصلوں کا سبب بن رہی ہے جن کے نتائج نہایت بُرے ہو سکتے ہیں”۔
مغربی ممالک کے ہاتھ روبل میں قدرتی گیس کی فروخت کے مرحلے کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ادائیگیوں کا مذکورہ نیا نظام تیار ہے اور پوتن کی منظوری کے لئے پیش کر دیا گیا ہے۔ مستقبل قریب میں رائے عامہ کو اس نئے نظام سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
پیسکوف نے مزید کہا ہے کہ روس سے قدرتی گیس کی خرید کے لئے روبل ادائیگیوں کے لئے گیسپروم بینک کے استعمال کے احتمال کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ولادی میر پوتن نے 23 مارچ کو ‘غیر دوستانہ ممالک کے ہاتھ روسی کرنسی روبل میں گیس کی فروخت کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جرمنی اور اٹلی جیسے بعض یورپی ممالک نے کہا تھا وہ یورو اور ڈالر میں ادائیگیاں جاری رکھیں گے۔
