English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کانگریس ہندو ازم کا شکار بن گئی ، مستقبل تاریک ہوتا نظر آرہا ہے

القمر

کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید) کانگریس ہندو ازم کا شکار ہوگئی‘ مستقبل تاریک ہوتا نظرآرہا ہے ‘مختلف ریاستوں میں پرنیکا گاندھی اور راہول گاندھی کی انتخابی مہم کے باوجود کانگریس کو شکست ہوئی ہے‘ اُترپردیش میں بی جے پی کی کامیابی نے آئندہ عام انتخابات کی پیشگوئی کردی‘ پاکستان دشمنی کی داستان سے عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوتا‘ عام آدمی پارٹی پنجاب میں اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے۔ ان خیالات کا اظہار بھارتی اداکار، سیاستدان شتروگن سہنا، عام آدمی پارٹی کے سربراہ روند کیجروال اوربھارتی صحافی ظہور حسین نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیا بھارت کی سیاست میں کانگریس کا کوئی مستقبل ہے؟‘‘ شتروگن سہنا نے کہا کہ کانگریس کے زخموں پر نمک کے بجائے مرہم رکھنے کی ضرورت ہے‘ بھارتی سیاسی منظر نامے کو سمجھنے کے لیے پہلے اُتر پردیش کے انتخابی معرکے کا جائزہ لینا ضروری ہے جسے 2024 ء کے عام انتخابات سے پہلے سیمی فائنل قرار دیا جا رہا تھا جس کے زبردست نتائج کی بنیاد پر وزیراعظم نریندر مودی نے آئندہ عام انتخابات میں اپنی کامیابی کا دعویٰ ابھی سے کردیا‘ سب سے بڑا معرکہ اتر پردیش میں ہوا جہاں یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلسل چوتھی فتح ہے اور اس کے ’’نئے ماڈل‘‘ یوگی ادتیاناتھ دوسری بار وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں‘ اترا کھنڈ میں بی جے پی نے48 سیٹیں لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ کانگریس 18سیٹیں جیت سکی‘ان انتخابات میں پرنیکا گاندھی اور راہول گاندھی ازخود کانگریس کی انتخابی مہم چلا رہے تھے اور بریلی میںکانگریس کے مطابق ان کی جیت یقینی تھی لیکن وہاں سے ان کو صرف 7 سیٹیں ہی مل سکی ہیں‘ اس لیے میں یہی کہوں گا کہ نر یندر مودی کا مقابلہ کر نے لیے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابینرجی کی پالیسی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جب بھی کانگریس کی حمایت سے انتخابات میں حصہ لیا بھاری اکثریت سے شکست کا سامناکرنا پڑا‘ اب میں “ممتا بینرجی” کی طرف سے بنگال میں الیکشن لڑ رہا ہو ں‘ کانگریس کو ایک اچھی قیادت کی ضرورت ہے اور مانیکا گاندھی کو کانگریس کی قیادت کرنی چاہیے۔ روند کیجروال نے کہا کہ کانگریس ہو یا اور پارٹی ان کو سمجھنا چاہیے کہ عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا ہے‘ عام آدمی پارٹی کی حکومت نے نئی دہلی میں 200 یونٹ تک بجلی فری اور 400 یونٹ تک فی یونٹ پر50 فیصد ٹیرف کم کرنے کا اعلان کیا ہے‘ اسی طرح پنجاب میں300 یونٹ تک بجلی فری ہو گی جہاں ہماری پارٹی کی ابھی حکومت قائم ہو ئی ہے جس پر بہت کم پارٹیاں توجہ دیتی ہیں‘ اگر کانگریس اور بی جے پی نے عوام کو کچھ دیا ہوتا تو عوام آج ان کے ساتھ ہوتے‘عام انتخابات میں پاکستان سے دشمنی کی داستان سنانے سے عوام کو کیا حاصل ہوگا؟ عام آدمی پارٹی نے پنجاب کے ریاستی انتخابات میں 117 نشستوں میں سے 91 نشستیں اپنے نام کی ہیں‘ کانگریس اور بھارتیا جنتا پارٹی کے امیدواروں کو مات دے کر اگلے انتخابات سے قبل خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ظہور حسین نے کہا کہ کانگریس اور بھارتی مسلمان گمبھیر صورتحال سے دوچار ہیں‘ سمجھ نہیں آ رہا کہ کون سا راستہ اپنائیں اور کون سا ترک کریں‘ بھارت میں کانگریس کے رہنما یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ ہمارے لیے دنیا آہستہ آہستہ تنگ کی جا رہی ہے‘مسلمانوں کو گائے کے نام پر قتل کیاجا رہا ہے‘ لو جہاد کے نام پر ستایا جا رہا ہے‘ یہی صورتحال آج کانگریس کی بھی ہے‘ کرناٹک، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، اترپردیش اور بہار میں کامیابی کا جھنڈا لہرانے والی کانگریس ان علاقوں میں ہندودھرم کا شکار ہو چکی ہے‘ کانگریس کے دور میں بھارت میں مسلمانوں کی سیاسی حیثیت انتخابات کا فیصلہ کن پہلو ہوا کرتی تھی تاہم ہندو قوم پسندی میں اضافے سے یہ حیثیت ختم ہوتی نظر آ رہی ہے اور مسلمان شہریوں میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ اب ان کا کوئی پرسان حال نہیں‘کانگریس دور میں بھی ہندو مسلمان فساد ہوئے ہیں اورا س میں بھی حکومت شامل ہو تی تھی لیکن اب بی جے پی والوں کی حکومت کھلے عام حمایت کا اعلان کرتی ہے‘ماضی قریب میں صرف بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کا دور ہے اور کانگریس کا دور رفتہ رفتہ ختم ہو تا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے