English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چیف جسٹس تاریخ کے کس پلڑے میں جائیں گے؟

القمر
گزشتہ روز ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ازخود نوٹس لے لیا تھا۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے اس بات کی تصدیق کر دی تھی کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک میں پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال پر ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ریاستی عہدیداروں کو کسی بھی ماورائے آئین اقدام سے روکتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں پرامن رہیں اور کوئی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھایا جائے۔عدالت نے سیکریٹری دفاع کو ملک میں امن وامان سے متعلق اقدامات پر آگاہ کرنےکا نوٹس جاری کیا جبکہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ رمضان شریف ہے، سماعت کو لٹکانا نہیں چاہتے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ کوئی حکومتی ادارہ غیر آئینی حرکت نہیں کرے گا، تمام سیاسی جماعتیں اور حکومتی ادارے اس صورت حال سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ عدالت نے حکم دیا کہ سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری دفاع امن وامان کی صورت حال سے عدالت کو آگاہ کریں اور ریاستی ادارے اورصوبائی قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کی صورت حال برقرار رکھیں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ از خود نوٹس میں صدر مملکت کو پارٹی بنا دیتے ہیں، کل 63-اے صدارتی ریفرنس کی مختصر سماعت کے بعد سماعت کریں گے کیونکہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کس وجہ سے ملتوی ہوا، جس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور وکیل رہنما اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس امن و امان کی خراب صورت حال پر ملتوی ہوا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قومی اسمبلی کی کارروائی میں دائرہ اختیار سے زیادہ مداخلت نہیں کر سکتے، قومی اسمبلی کی کارروائی سے ہم آگاہ ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی کی صورت حال پر درخواست آئے گی تو دیکھیں گے۔
یہ بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک المناک باب ہے کہ جو فیصلے منتخب پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں، ان کے لئے ایک غیر منتخب ادارے میں دلائل دیے جائیں گے۔ سپریم کورٹ کے اختیار و ضرورت سے کلام نہیں ہے لیکن ملک کی سیاسی قیادت نے اقتدار کی کشمکش میں ملک کو ایک ایسے سنگین بحران سے دوچار کیا ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ملک کا منتخب وزیر اعظم اسی ادارے کے اختیار کو ماننے پر تیار نہیں ہے جس نے اعتماد کا ووٹ دے کر اسے اس منصب پر فائز کیا تھا۔ عمران خان کے اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں نہ ملک کی پرواہ ہے اور نہ ہی اس قانون و آئین کی، جس کے تحت اس ملک کا نظام چلایا جاتا ہے۔
ایک طویل عرصہ سے یہ جد و جہد کی جا رہی ہے کہ کسی طرح غیر منتخب اداروں کو سیاست سے دور رکھا جائے اور تمام فیصلے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ میں کیے جائیں۔ البتہ یہ مقصد اسی وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب سیاست دان ہوس اقتدار میں مبتلا ہو کر خود ہی غیر منتخب اداروں کو سیاست میں ملوث کرنے سے باز رہیں۔ ڈپٹی اسپیکر، وزیر اعظم اور صدر مملکت کے اقدامات سے واضح ہوا ہے کہ اس وقت ملک کے اقتدار پر قابض ٹولے کو ذاتی اقتدار اور سیاسی فیس سیونگ سے زیادہ کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز عوام کے ساتھ مکالمہ کے ایک سیشن میں واضح طور سے کہا تھا کہ وہ اپنا اقتدار بچانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔
ان کا موقف تھا کہ قومی اسمبلی میں ارکان کی اکثریت اگرچہ ان کے خلاف ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود اسمبلی میں رونما ہونے والی اس تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس کی سادہ سی یہ وجہ بتائی جاتی ہے کہ عمران خان اللہ کا ایک ایسا فرستادہ جو 2022 میں سنت حسینی کو زندہ کرنے کا عزم لے کر میدان میں اترا ہے۔ صرف اسی کا کہا ہوا درست اور باقی سب لوگوں کی رائے ملک دشمنی اور سازش ہے۔ اس کے خلاف کوئی بھی قدم باطل و گمراہی ہے۔ اور عمران خان ملک کا آئین پامال کر سکتا ہے لیکن ’حق‘ کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا۔
عمران خان نے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت عدم اعتماد کی ہزیمت سے بچنے کے لئے پہلے ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے ملکی آئین کو پامال کرنے کا طریقہ اختیار کیا اور پھر اسے جاری رکھتے ہوئے صدر عارف علوی کے ذریعے قومی اسمبلی کو توڑا گیا ہے۔ وزیر اعظم کو یہ اقدامات کرنے کی ضرورت اس وقت محسوس ہوئی جب تمام تر سیاسی کوششوں اور ترغیب و تحریص کے ہتھکنڈوں کے باوجود ایک کے سوا تمام اتحادی پارٹیوں نے تحریک انصاف کی حکومت سے علیحدگی حاصل کرلی۔ مسلم لیگ (ق) کو ساتھ ملانے کے لئے پرویز الہیٰ کو پنجاب کی وزارت عظمی دینے کا اقدام کیا گیا۔ اس کے باوجود عمران خان بڑی ڈھٹائی سے اپوزیشن پر ارکان اسمبلی خریدنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اور یہ بے بنیاد الزام تراشی کی جاتی رہی ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان توڑنے کے لئے اربوں روپے صرف کیے گئے ہیں۔ نہ کوئی پوچھتا ہے اور نہ کوئی بتاتا ہے کہ ان غیر اخلاقی، غیر پارلیمانی اور بے بنیاد الزامات کے ثبوت کہاں ہیں۔ اپوزیشن کو تو تحریک انصاف کے منحرف ارکان کے بغیر ہی قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہو گئی تھی۔ تحریک انصاف کے ارکان تو اپنی سیاسی ناراضی اور مستقبل کی مجبوری کی وجہ سے کسی بھی طرح تحریک انصاف اور عمران خان سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔
یہ بات بہر حال قابل غور و فکر ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے دعویدار سیاسی لیڈر اسمبلی میں بیٹھ کر فیصلہ کرنے کی بجائے اسمبلی توڑ کر سپریم کورٹ سے یہ امید کر رہے ہیں کہ اس غیر قانونی اور غیر جمہوری اقدام کو جائز قرار دیا جائے۔ سپریم کورٹ اگر اس جال میں پھنس گئی اور اتوار کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور ایوان صدر کی طرف سے جاری ہونے والے احکامات کو غیر آئینی قرار نہ دیا گیا تو اس ملک میں آئین واقعی کاغذ پر لکھے چند حروف سے زیادہ اہم نہیں رہے گا جسے کوئی بھی صاحب اقتدار و اختیار اپنی ضرورت اور مقصد کے لئے جب چاہے اور جیسے چاہے استعمال کر سکتا ہے۔
پیر، 4 اپریل 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post چیف جسٹس تاریخ کے کس پلڑے میں جائیں گے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے