کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی تحریک عدم اعتماد کی رولنگ کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی۔ اس دوران تحریک انصاف نے ایوان میں شدید شور شرابہ کیا اور نعرے بازی کی‘ اس دوران حکومتی اوراپوزیشن اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت ہوا تو اجلاس کے آغاز ہی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ اسپیکر سندھ اسمبلی سے اُلجھ گئے۔ حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بقا کو ڈالروں کے عوض خطرے میں ڈالا گیا جنہوں نے سندھ کو تباہ و برباد کیا،سندھ ہاؤس میں جنہوں نے ڈالروں کی بولی لگائی‘ اللہ تعالی ان کو نیست و نابود فرمائے۔ اسپیکر سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ ایوان میں دعاکرائی جاتی ہے، بددعا نہیں۔ اس دوران حلیم عادل شیخ کا مائیک بند کر دیا گیا۔ قبل ازیں صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ نے سندھ کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک منحوس حکومت سے ہماری جان چھوٹی ہے،اس شخص سے پورے ملک میں منحوسیت تھی‘ یہ قومی اسمبلی چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس دوران تحریک انصاف کے اراکین شورشرابہ کرتے ہوئے اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اورایوان میں نعرے بازی شروع کردی جبکہ ایوان میں بینراور کتبے لہراتے ہوئے پی ٹی آئی اراکین اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اسکا گھیرائو کرلیا اور ملک دشمن، ضمیرفروش، لوٹے مردہ باد کے نعرے لگائے۔ شور شرابے کے باوجود پیپلز پارٹی کی رکن سندھ اسمبلی ندا کھوڑو اور ایم کیو ایم پاکستان کی سنجے پروانی نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی تحریک عدم اعتماد پر رولنگ کے خلاف قرارداد مشترکہ طور پر ایوان میں پیش کی ‘ جس کو کثرت رائے سے منظورکرلیا گیا۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف سندھ پارلیمنٹرینز نے بدھ کو سندھ اسمبلی سیکرٹریٹ میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف مذمتی قرارداد جمع کرادی۔ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ، اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان، صدر پی ٹی آئی کراچی بلال عبدالغفار اور دیگر نے قرارداد جمع کرائی۔
