برکینا فاسو نے انسداد دہشتگردی کے تحت ملک بھر میں دوبارہ سے ہنگامی حالت ناذ کر دی ہے۔
وزیر انصاف بارتھیلیمی کارہ نے بیان میں کہا کہ چوبیس جنوری کی فوجی بغاوت کے بعد معطل کردہ ہنگامی حالت دوبارہ سے نافذ کی جا رہی ہے۔
کارہ نے بتایا کہ اس نفاذ کا مقصد ملک میں انسداد دہشتگردی کے لیے کوششوں کو موثر بنانا ہے۔
واضح رہے کہ ہمسایہ ممالک مالی میں موجود القائدہ اور داعش سے وابستہ دہشتگرد گروہ شمالی برکینا فاسو میں مسلسل حملے کرتے رہتے ہیں۔
حکومت کے مطابق، سال 2015 سے دسمبر 2021 تک چھ سو حفاظتی اہلکاروں سمیت دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ان حملوں کی وجہ سے 3683اسکول بند کر دیئے گئے جبکہ اٹھارہ لاکھ چودہ ہزار دو سو تیراسی افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔
