کراچی(سید وزیر علی قادری ) سابقہ حکومت نے جس روایت کو جنم دیا ہے اس کا شکار ادارے بھی نظر آتے ہیں، ایک روز قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجا کے بارے میں قیاس آرائیاں ہورہی تھیں کہ وہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد از خود استعفی دے دیں گے۔ لیکن یو ٹرن لیتے ہویے اور کپتا کی روش پر قائم رہتے ہویے ستمبر میں اس پوزیشن پر براجمان ہونے والے کمینٹیٹر رمیز راجا نے مسعتفی نہ ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ باخبر زرائع کے مطابق یہ مشورہ ان کے ساتھی جن کی خود عیاشیاں دم توڑتی نظر آرہی ہیں اور لاکھوں لاکھوں روپے کے بھاری بھر کم تنخواہیں اور مراعات کا جو نشہ ان کو سوار ہے اس سے اترنے کو وہ سب تیار نہیں، لہذا ان نے رمیر پر زور دیا ہے کہ وہ راجا ہی بنے رہیں ۔ دیکھا جائے گا۔ تاہم اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجانے عہدے سے استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق رمیز راجا نئی حکومت کے قیام کے بعد بھی بطور چیئرمین پی سی بی کام جاری رکھیں گے اور وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے حکومت کی جانب سے پیغام کے منتظر ہیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ رمیز راجا کی جانب سے استعفیٰ دیے جانے کی صورت میں چیئرمین شپ کے لیے سابق چیئرمین نجم سیٹھی کا نام زیر غور لایا جائے گا۔ دریں اثنا پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین کے لیے نجم سیٹھی مضبوط امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔ واضح رہے کہ ماضی میں پی ایس ایل سمیت کئی بڑے منصوبوں کو کامیابی سے چلانے والے نجم سیٹھی کو ان کے دوست مبارک باد دے رہے ہیں لیکن وہ بات چیت سے گریز کررہے ہیں۔ گزشتہ روز رمیز راجا کچھ دیر کے لیے پی سی بی ہیڈ کوارٹر آئے لیکن زیادہ وقت نہیں گزارا۔
