اسلام آباد (آن لائن+مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں شہزاد اکبر اور شہباز گل سمیت 6 افراد کے نام ایف آئی اے کی اسٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کا حکم معطل کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف آئی اے نے پی ٹی آئی کی سابق حکومت کے 6 اہم ارکان شہباز گل ، شہزاد اکبر، ڈیجیٹل میڈیا پر عمران خان کے فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد، وزیراعظم کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، پنجاب اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹر جنرل گوہر نفیس اور محمد رضوان کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کیے تھے۔گزشتہ روز عمران خان کے سابق مشیر شہزاد اکبر اور سابق معاون خصوصی شہباز گل ایف آئی اے کی جانب سے نام واچ لسٹ میں شامل کرنے کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے جہاں دونوں رہنماؤں نے درخواستیں دائر کیں جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ آج ہی بینچ تشکیل دیا جائے اور سماعت کی جائے پی ٹی آئی رہنماؤں نے اپنی درخواستوں میں مؤقف اپنایا ہے کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں لہٰذا ان کی بیرون ملک روانگی پر پابندی کو ختم کیا جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماؤ ں کی درخواست پر سماعت کی جس میں عدالت نے استفسار کیا کہ مجاز افسران مقرر کریں جو وضاحت کریں کہ کس کے کہنے پرنام واچ لسٹ شامل کیا۔ عدالت نے درخواست پر مختصر سماعت کے بعد شہزاد اکبر اور شہباز گل کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالنے کا حکم معطل کردیا۔ عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت آج صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردی۔ اس سے قبل عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں شہزاد اکبر نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا آغاز ہو گیا ہے، عدم اعتماد کی کارروائی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی اس رات نام اسٹاپ لسٹ میں کس نے ڈالا؟ نام اس وقت اسٹاپ لسٹ پر ڈالا گیا جب نہ کابینہ تھی، نہ حکومت ،نہ وزیراعظم انہوں نے کہا کہ ہم کہیں نہیں جا رہے، اپنے لیڈر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں جب کہ میں تو اوورسیز پاکستانی بھی نہیں، حصول تعلیم کے 6-7 سال کے علاوہ ساری زندگی یہیں رہا ہے۔
