English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اتحادیوں کے ساتھ تین سال سے بات چیت چل رہی تھی، عمران خان کو پتہ ہی نہیں چلا: آصف زرداری

القمر

سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کے اتحادیوں کے ساتھ تین سال سے بات چیت چل رہی تھی۔ شہباز شریف کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ان سارے معاملات کا عمران خان کو پتہ ہی نہیں چل سکا۔

جیو ٹی وی کے پروگرام ” کیپیٹل ٹاک” میں میزبان حامد میر کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ جب سب کچھ طے ہو گیا تو پھر عمران خان کو پتہ چلا کہ عدم اعتماد کی تحریک آ رہی ہے لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی اور آخر کار عمران کو نکال دیا۔

اس پر حامد میر نے کہا کہ زرداری صاحب آپ نے تو 2019ء سے ہی کہنا شروع کر دیا تھا کہ مُک گیا تیرا شو کپتان، کیا آپ نے اس وقت سے ہی لوگوں کو توڑنا شروع کر دیا تھا؟

اس کا جواب دیتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام اتحادیوں سے ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ لوگ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں نے جب بھی وعدہ کیا، اسے پورا کیا۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کیساتھ تحریک عدم اعتماد سے قبل خفیہ ملاقاتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تمام اتحادیوں کیساتھ بات کرکے انھیں بتایا کہ ہمارے پاس نمبر گیم پوری ہو چکی ہے، آپ اپنی پارٹی کو راضی کریں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں اپنے قائد میاں نواز شریف سے بات کرکے آپ کو بتاتا ہوں۔ اس کے بعد سلسلہ شروع ہوا۔ یہ بات میں سب سے پہلے آپ کے پروگرام میں ہی بتا رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے بھی عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد میں ہمارا ساتھ دیا، ان کیساتھ ہم نے معاہدے کئے ہیں۔ ان معاہدوں پر عملدرآمد کرانا اب میری ذمہ داری ہے کیونکہ میں نے ہی ان سب کو اکھٹا کیا ہے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو مسئلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی کو کسی نے مس گائیڈ کیا۔ ہم تو ابھی بھی چاہتے ہیں کہ وہ سیاسی دائرے میں واپس آ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اتحاد ہم دینے والے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اتحاد دیا ہے۔ جتنے بھی دوست اتحاد میں ہیں، ان سب کیساتھ معاہدے ہوئے ہیں۔ ایم کیو ایم کیساتھ بھی معاہدے کا میں ہی ضامن ہوں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری تمام کام صلاح ومشورے کیساتھ ہی کرتے ہیں۔ جہاں تک ان کو وزیر خارجہ بنائے جانے کی بات ہے تو وہ یہ فیصلہ مشاورت کیساتھ ہی کرینگے۔ بلاول بھٹو ہر کام سی ای سی کیساتھ مشاورت کیساتھ کرتے ہیں، پھر ہی کوئی پالیسی بناتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے اردگرد بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جو پیپلز پارٹی کی نرسری سے گئے تھے، ان میں بابر اعوان جیسے لوگوں نے اسے بتا دیا تھا کہ آصف زرداری سیاسی مخالفین کو اکٹھا کر سکتا ہے، اسی لئے اس نے کہا کہ آصف زرداری میرا ٹارگٹ نمبر ون ہے۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان کی پراپیگنڈہ مشینری بہت مضبوط ہے۔ گولڈ سمتھ فیملی آج بھی اسے سپورٹ کرتی ہے۔ زیک گولڈ سمتھ نے کچھ دن پہلے عمران خان کی کھلم کھلا سپورٹ کی۔ وہ برطانیہ کی حکومت میں وزیر ہے۔ اگر وہ عمران کو سپورٹ کر رہا ہے تو امریکہ کی سازش کہاں ہے؟

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے