English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسلام کو بطور نظام قبول نہیں کیا گیا معاشرے میں تبدیلی کا آغاز ذات سے ہوتا ہے

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) اسلام کو بطور نظام قبول نہیں کیا گیا‘ معاشرے میں تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے ہوتا ہے‘ رمضان المبارک نزول قرآن، عبادات اور صبر کا مہینہ ہے‘ روزے رکھ کر چیزیں مہنگی بیچتے اور جھوٹ بولتے ہیں‘ ہمسایوں کا خیال نہیں رکھتے ‘ جائداد میں بہنوں کو حصہ نہیں دیتے‘ ماہ مقدس میں برائیاں کم اور لوگ نیکیوں کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار فروغ اسلام فائونڈیشن کے ڈائریکٹر مولانا عطا اللہ عبدالرئوف، سابق ڈین سوشل سائنسز جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادری، جامعہ کراچی شعبہ اسلامی تاریخ کے صدر نشین پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق اور پاکستان کے مقبول ترین موٹیویشنل اسپیکر، ٹرینر، استاد اورکئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر محمد عارف صدیقی نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’رمضان المبارک میں کروڑوں لوگوں کی عبادات کے باوجود معاشرے میں تبدیلی کیوں نظر نہیں آتی؟‘‘ مولانا عطا اللہ نے کہا کہ جس طرح آپ کا سوال ہے کہ رمضان المبارک میں کروڑوں لوگوں کی عبادات کے باوجود معاشرے میں تبدیلی کیوں نظر نہیں آتی‘ میں اس سوال سے تھوڑا سا اختلاف کروں گا جب اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا ہے کہ میںنے تم پر روزے اس لیے فرض کیے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو پھر یہ بات خارج ازبحث ہوگئی کہ روزے سے تقویٰ پیدا نہیں ہوتا ہے اس لیے کہ خالق کائنات کہہ رہا ہے کہ اس سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے تو یہ بات تو اظہر من الشمس ہے لیکن دوسری جانب جب ہم اپنے معاشرے کو دیکھتے ہیں تو اس کے باوجود رمضان المبارک میں برائیاں پوری طریقے سے ختم نہیں ہوتیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں کمی واقع نہیں ہوتی بلاشبہ کمی واقع ہوتی ہے‘ آپ دیکھیں مسجدوں کی جانب لوگوں کا رجحان بڑھ جاتا ہے ‘تلاوت قرآن بڑھ جاتی ہے اور اس طرح بہت سے خیرکے کام ہیں جو اس مہینے میں نسبتاً آسان ہوجاتے ہیں۔حضور اکرم ؐکا فرمان مبارک ہے ’’ جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس بات کی کوئی ضرورتنہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے‘‘ تو اس کا مطلب یہی ہے کہ روزہ انسان کے اعمال پر اثرانداز ہوتا ہے اور اس کی خیر وبرکات مسلم معاشرے میں نمایاں طور پر محسوس کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد احمد قادری نے کہا کہ ہمارے مرض کی تشخیص رب تعالیٰ اور نبی کریمؐنے کی ہے لیکن ہم اگر اپنا علاج خود نہ کریں تو اس میں دین اسلام یا رمضان المبارک کا کوئی قصور نہیں ہے‘ قصور ہمارا ہے تو جو تعلیمات ہیں ان کو ہم اپنی پوری زندگی میں اپنانا نہیں چاہتے ہیں‘ جو لوگ سنجیدگی سے اپناتے ہیں اور رمضان المبارک کی عبادتوں کو جاری رکھتے ہیں تو ان میں یقیناً تبدیلی آتی ہے‘ بہت سارے لوگ داڑھی رکھ لیتے ہیں قرآن پاک حفظ کرنا شروع کردیتے ہیں دین اسلام سیکھنا اور دعوت وتبلیغ کا کام شروع کر دیتے ہیں‘ ایسا نہیں ہے کہ رمضان المبارک میں لوگوں کی عبادات کے باوجود معاشرے میں تبدیلی نہیں آتی ہے لیکن ہاں اکثریت ہماری یہ ہے کہ ہم رمضان میں روزے رکھتے ہیں اور ساتھ میں ہی چیزوں کو مہنگا فروخت کرتے ہیں جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں‘ہر وہ کام کررہے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے‘ اللہ کرے کہ ہم رمضان المبارک کے پیغام کو سمجھیں اور اپنی ذات کی اصلاح کرنے کے بعد پورے معاشرے کو پاکیزہ کریں۔ ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق نے کہا کہ ماہ رمضان المبارک نزول قرآن، عبادات اور صبر کا مہینہ ہے‘ یہ مہینہ تربیت نفس کا ہے جس کے لیے ہمیں ایک ایمان پرور ماحول بھی میسر آجاتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم عبادات و تربیت نفس کو صرف اس ماہ تک محدود رکھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ باقی کے11ماہ کا تقویٰ و ضبط نفس سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ یہی وجہ ہے کہ اس ماہ مبارک کے ختم ہوتے ہی نہ صرف شیطان کو آزادی مل جاتی ہے بلکہ ہمارا نفس بھی آزاد ہوجاتا ہے اور حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ ڈاکٹر محمد عارف صدیقی نے کہا کہ در حقیقت اسلام ایک عالمگیر اور آفاقی مذہب ہے مگر ہم لوگوں نے بدقسمتی سے اسے بہت چھوٹا کر دیا ہے ہم نے اسے اعمالِ کے بجائے اذکار بدنی عبادت اور چند خاص طرح کے وظائف پڑھنے میں اپنی نجات سمجھ لی ہے ہم نے سمجھا کہ یہ چلہ کاٹیںگے ‘یہ والا وظیفہ اور یہ والا دردو پڑھ لیں تو ہمارے سارے معاملات سدھر جائیں گے‘ حقوق العباد اور حقوق اللہ معاف ہو جائیں گے اور ہم جنت میں چلے جائیں گے‘ اس سوچ کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے ذخیرہ اندوزی کرنا، دوسروں کے پیسے غصب کرنے شروع کیے‘ بہنوں کو جائداد میں سے حصہ نہیں دیتے اور سوچتے ہیں کہ میں رمضان المبارک میں روزے رکھوں گا تو میرے گناہ معاف ہو جائیں گے‘ لوگوں نے دوسروں کے کروڑوں روپے ہڑپ کر لیے اور یہ سوچا کہ بس عمرہ اورحج کرلوں گا تو میرے گناہ معاف ہو جائیں گے‘حالانکہ انہیں بتانا چاہیے تھا کہ رشوت کے پیسوں سے پہنے کپڑوں میں نماز نہیں ہوتی ہے ‘وہ عبادات جن میں حرام کا پیسہ شامل ہو وہ عبادت ہی قبول نہیں ہوتی ہے‘ دوسرا یہ کہ ہم نے اسلام کو بطور نظام قبول ہی نہیں کیا ہے‘ ہم نے یہ سوچا کہ شاید اسلام ایک انفرادی عبادات کا نام ہے جبکہ اسلام اجتماعیت کا درس دیتا ہے‘ اسلام معاشرے کو بدلنے کی بات کرتا ہے‘ اسلام مسلمان کو غالب آنے کی تلقین کرتا ہے مگر جب آپ نے مغلوب ہونے پر سمجھوتا کرلیا تو پھر غلاموں کے آداب کچھ اور ہوتے ہیں۔ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے‘ ابھی اگر اسلام کی صحیح روح کو سمجھیں‘ اسلام کی پیروی کریں تو ہمیں پتا چلے گا کہ ہمیں اجتماعیت کا درس دیا گیا ہے‘ ہمیں معاشرے کو بہتر بنانا ہے‘ ہمیں اپنے سے زیادہ اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا ہے‘ حق دار کو حق دینا بھی سنت ہے ‘ وعدہ ایفا کرنا بھی سنت ہے‘ ہم نے ان سنتوں کو بھولا دیا ہے تو جب تک ہم ان سنتوں کو زندہ نہیں کریں گے ہم رمضان اور دیگر عبادات کی حقیقی روح اور برکات سے محروم رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے