اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) سابق وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے کہ پی ٹی آئی کے نام سے کسی رکن کو اپوزیشن لیڈر یا کمیٹی کا رکن نامزد نہ کیا جائے۔عمران خان کی جانب سے بابر اعوان نے مراسلہ الیکشن کمیشن میں جمع کرایا جس میں کہا گیا کہ کسی بھی فورم پر پی ٹی آئی کا نام استعمال کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں وفاق اور صوبوں میں پاکستان تحریک انصاف نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے، اسی تناسب سے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر خواتین اور اقلیت ارکان کو نامزد کیا گیا، پی ٹی آئی 11 اپریل کو قومی اسمبلی کی تمام نشستوں سے مستعفی ہوچکی ہے اور منحرف اراکین کے خلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی کے لیے ریفرنسز دائر کیے جا چکے ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں پر خواتین اور اقلیتی ممبران کے نام واپس لیتا ہوں، ان ارکان کے کسی عمل کے لیے پارٹی ذمہ دار نہیں ہوگی۔بعدازاں، بابر اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خبریں تھیں کہ ہمارے کسی بھگوڑے کو اپوزیشن لیڈر بنایا جا رہا ہے اس لیے الیکشن کمیشن میں الیکشن ایکٹ کی پانچ شقوں کے تحت درخواست دی ہے اور بتایا ہے کہ تحریک انصاف کا نام کوئی استعمال نہیں کر سکتا۔علاوہ ازیںچیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)عمران خان نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے والے اپنے 123 ارکان کو سراہا ہے۔ٹوئٹر پر ایک بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ استعفے دینے پر تحریک انصاف کے 123اراکین اسمبلی کو سراہنا چاہتے ہیں، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے ان کے استعفے منظور کرلیے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے اراکین ایک آزاد اور خودمختار پاکستان کے لیے اور بیرونی مداخلت کے تحت بننے والی حکومت کے خلاف عزم کے ساتھ کھڑے ہیں جس نے عدالت سے ضمانت پر رہا ہونے والے مجرموں کو اقتدار تک پہنچایا جو کسی بھی آزاد اور باعزت قوم کی بدترین توہین ہے۔ایک اور ٹوئٹ میں عمران خان نے پشاور جلسے میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ اداکیا ہے۔دریں اثناء چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ۔ عمران خان سے سینئر اراکین پارلیمان نے خصوصی تفصیلی ملاقات کی ۔ ملاقات کرنے والوں میں نصراللہ دریشک، ثناء اللہ مستی خیل، خواجہ شیراز، عمر ایوب خان و دیگر شامل تھے۔ ملاقات میں انتخابات کو التواء کا شکار کرکے ملک و قوم کو بحران کا شکار کرنے کی حکومتی کوشش پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ عمران خان نے کہا امریکی ایماء پر مقامی کٹھ پتلیوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کو جمہورِ پاکستان نے اپنی توہین تصور کیا ہے۔ عدمِ اعتماد کی تحریک کے ذریعے پاکستان پر تسلط جمانے کی کوشش پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ امپورٹڈ حکمران پارلیمان کی صریح توہین، جمہوریت کی ساکھ خاک میں ملانے کا وسیلہ بن رہے ہیں انہوں نے کہا پوری قوم سامراج،غدار گٹھ جوڑ کیخلاف کھڑی ہوچکی ہے۔ قبل ازیںسابق وزیراعظم عمران خان نے اعتراف کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنا غلطی تھی۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے اس بات کا اعتراف انصاف لائرز فورم کے اجلاس میں کیا، اجلاس میں پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو ہراساں کرنے سے متعلق قانونی کارروائی پر بھی گفتگو کی گئی۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے اعتراف کیا کہ متعلقہ افراد نے جسٹس فائز عیسیٰ کیس کے بارے میں غلط گائیڈ کیا۔ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عمران خان کو بتایا کہ جسٹس فائز عیسیٰ ایماندار جج ہیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں عمران خان نے کہا کہ عدلیہ میں ایک سیکشن جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس دائر کرنے پر پی ٹی آئی سے ناراض تھا۔

