حب (نمائندہ جسارت)بلوچستان کا سب سے بڑے صنعتی شہر حب یو تو گویا گوں مسائل سے دوچار ہے مگر سب سے بڑا مسئلہ پینے کے پانی کا ہے شہر کے اکثر علاقوں کے مکینوں کو پینے کے پانی کی دستیابی میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں واٹرسپلائی کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور جن علاقوں میں واٹر سپلائی سسٹم موجود ہے وہاں کے مکینوں کو بھی پانی کی عدم فراہمی کی شکایات ہیں۔الہ آباد ٹاؤن میں بھی پانی سے متعلق لوگ مسائل سے دوچار ہیں،چند سال قبل مونسپل کارپوریشن حب کی جانب سے الہ آباد ٹاؤن کے مکینوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے سابق کونسلر ان کے مشترکہ لاکھوں روپے کے فنڈز سے الہ آباد مگسی کالونی فٹبال گراؤنڈ میں ایک انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک بنایا گیا تھا جسے تقریبا 5 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن واٹر ٹینک تاحال غفلت، لاپروائی عدم توجہی کی وجہ سے غیر فعال ہے واٹر ٹینک کی تعمیر کے بعد مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ ٹینک کچرہ کنڈی کا منظر پیش کر رہا ہے اور انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے جبکہ الہ آباد ٹاؤن پورے علاقے کے مکین خاص کر سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ الہ آباد ٹاؤن مگسی کالونی ہے وہاں کے علاقے کے مکین کئی سالوں سے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ سابق چیئرمین پرنس احمد علی جب چیئرمین تھے تو اس دور میں مگسی کالونی میں پانی کے پائپ لائن ڈالے گئے تھے وہ بھی 20 سال قبل سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جوکہ 20 سال سے آج تک تمام پائپ لائن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں اس کے بعد آج تک پورے مگسی کالونی میں اکثر نو پانی پائپ لائن کی اہم اسکیم ابھی تک نہیں دیا گیا ہے اور نہ منتخب نمائندوں کی جانب سے کوئی ٹھوس اور خواطر خواہ عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے وہاں کے مکین آج کے اس جدید دور میں بھی تمام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں مگسی کالونی میں نہ ہی آج تک کوئی توجہ دی گئی ہے آج کے اس جدید دور میں بھی وہاں بہت بڑی آبادی ہونے کے باوجود بھی آج تک یہاں گورنمنٹ کی جانب سے اس جدید دور میں بچوں کے پڑھنے کے لیے کوئی بھی بوائز اور گرلز اسکول گورنمنٹ پرائمری یا مڈل کلاس کے اسکول تک موجود نہیں ہے وہاں کے مکین غربت بیروزگاری کے عالم میں وہاں کے مکین اپنے بچوں کو یا ارد گرد ڈیرہ ڈالے پرائیویٹ اسکول میں پڑھنے پر مجبور ہیں یا کافی دور چل کر حب کے اس ہیوی ٹریفک گورنمنٹ بوائز پرائمری ہائی حب میں تمام بچے اور بچیاں پڑھتے آتے ہیں جو بعض ازاں یہ بچے مختلف ٹریفک حادثات کا بھی شکار ہو گئے ہیں جوکہ وہاں کے مکین سراپا احتجاج ہیں،جبکہ باقی متاثرہ علاقوں میں فٹبال گراؤنڈ ارد گرد ایریا، آسکانی محلہ،ڈاکخانہ روڈ،پیر جان کالونی،دودا گوٹھ، بھٹ آباد کو پانی کے حصول کے لیے بدستور مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب کافی عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی ابھی تک کسی بھی متعلقہ ادارے نے واٹر ٹینک کو فعال بنانے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا جبکہ یہاں واٹر ٹینک والوں کی چاندی لگی ہوئی پانی ٹینکر کے دام اپنے من مرضی کے مطابق کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ مذکورہ واٹر ٹینک اگر فعال بنا یا جا ئے تو پورا الہ آباد ٹاؤن سمیت دیگر ملحقہ علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا مسئلہ کافی حد تک آب کی رسائی بہتر ہوسکتا ہے مگر مذکورہ واٹر ٹینک کو فعال بنانے کے لیے نہ ہی تو مونسپل کارپوریشن حب کوئی دلچسپی لے رہا ہے اور نہ ہی محکمہ پبلک ہیلتھ حب اس واٹر ٹینک میں کوئی دلچسپی لے رہا ہے لاکھوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے وانے واٹر ٹینک کو جلد فعال نہیں بنایا گیا تو کچھ عرصے بعد یہ واٹر ٹینک مکمل طور پر کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگے گا ضرورت اس امر کی ہے کہ الہ آباد ٹاؤن کے مکینوں کے اس بنیادی مسئلے پر منتخب نمائندے سینئر صوبائی وزیر بلدیات بلوچستان سردار محمد صالح بھوتانی،ممبر قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی سینیٹر،محکمہ پبلک ہیلتھ ،مونسپل کارپوریشن کی جانب سے جلد توجہ مرکوز ہے مونسپل کارپوریشن حب اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینرنگ کی مشترکہ تعاون سے اس واٹر ٹینک کو فعال بنانے کے لیے اقدامات اُٹھائیں اور لاکھوں روپے کے فنڈز سے تعمیر کیئے جانے والے واٹر ٹینک کو مزید تباہی سے بچایا جائے جبکہ الہ آباد ٹاؤن کے مکینوں کا گورنر بلوچستان،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، سنیئر صوبائی وزیر بلدیات بلوچستان سردار محمد صالح بھوتانی،رکن قومی اسمبلی لسبیلہ ٹو گوادر محمد اسلم بھوتانی اور سینیٹر،منتخب نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ یہاں کے مکینوں کے لیے رسائی آب کے لیے فوری ٹھوس اقدامات اور نوٹس لیا جائے تاکہ یہاں کے مکینوں رسائی آب ممکن ہو سکے۔
