
مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں چھاپامارکارروائیوں میں 3فلسطینیوں کو گولی مار کر شہید کردیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مرنے والوں میں 14 سالہ لڑکا اور انسانی حقوق کے ایک معروف وکیل بھی شامل ہیں۔کارروائیوں کے دوران جھڑپیں بھی ہوئیں،جن میں کئی فلسطینی زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں 14 سالہ قصی محمد حمامرہ پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے فوجیوں پر پیٹرول بم پھینکا تھا ،جس کے جواب میں اس پر گولی چلائی گئی۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق انسانی حقوق کے وکیل 34 سالہ محمد حسن محمد عساف کو قابض فوج نے سینے میں گولی ماری ۔ اسرائیلی حکام نے اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی۔ شہید ہونے والے تیسرے فلسطینی کانام عمر محمد علیان بتایا گیا ہے۔یہ واقعات رام اللہ ، بیت لحم اور قلقیلیہ میں پیش آئے۔ اسرائیلی داخلہ سیکورٹی سروس شن بیت کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران 3فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا جو اسرائیلیوں کے خلاف حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اس سے قبل بدھ کے روز کارروائیوں میں 20 افراد کوحراست میں لیا گیاگیا۔دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ترجمان نے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
