لاہور پولیس نے حساس ادارے کے افسر کو تشدد کا نشانہ بنانے پر سیاسی رہنما کے گارڈز کو گرفتار کرلیا ہے۔
قائمقام سی سی پی او لاہور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شہزادہ سلطان کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ گذشتہ شام کلمہ چوک کے قریب افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں سیاسی جماعت کے رہنما کے پرائیویٹ گارڈز نے حساس ادارے کے ملازم کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ راستہ نہ دینے پر پرائیویٹ گارڈز نے حساس ادارے کے افسر کو تشدد کا نشانہ بنایا، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے ملوث چاروں ملزمان کو گرفتار کرلیا اور گاڑی قبضہ میں لے لی۔
پاکستان آرمی کے میجر حارث کو ن لیگ کے رہنما کے گارڈز نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے انکا بازو ٹوٹ گیا- میرا یہ بھائی سیاچین پر بملک کا دفاع کر چکا ہے-
سلمان رفیق،حافظ نعمان اگلی گاڑی میں تھے جب انکے گارڈز نے میجر حارث کو مارا- افسوسناک-
#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور pic.twitter.com/yKpXxyJZbe— Arshad Sharif (@arsched) April 13, 2022
دوسری جانب لیگی رہنما خواجہ سلمان رفیق نے اپنے گارڈ کے ہاتھوں حساس ادارے کے افسر پر تشدد کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔اپنے ٹویٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی ٹرولز کی جانب سے اور ان کے حامی چینل پر ایک حساس ادارے کے افسر پر میری موجودگی میں میرے گارڈز کے ہاتھوں تشدد کے حوالہ سے پھیلایا جانیوالا مواد بے بنیاد جھوٹ اور ہے۔
ھم عدم تشددپر یقین رکھتے ھیں – تشدد کی ھر کاروائ قابل مذمت ھے-
— Khawaja Salman Rafique (@SalmanRafiquePK) April 13, 2022
ان کا مزید کہنا تھا کہ واضح رہے کہ میں بغیر گارڈز کے سفر کرتاہوں میراایسے کسی واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
خیال رہے کہ اے آر وائی نیوز کے اینکر ارشد شریف نے ٹویٹ کیا تھا کہ پاکستان آرمی کے میجر حارث کو ن لیگ کے رہنما کے گارڈز نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا،جس سے ان کا بازو ٹوٹ گیا۔
*قائمقام سی سی پی او لاہور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شہزادہ سلطان کی پریس کانفرنس.
قائمقام سی سی پی او شہزادہ سلطان کی ایک حاضر سروس افسر پر سیاسی جماعت کے چار پرائیویٹ گارڈز کے تشدد اور واقعہ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری بارے میڈیا کے نمائندوں کو تفصیلات سے آگاہ کر ہیں۔ pic.twitter.com/6YyexIeQ9R— Capital City Police Lahore Official (@CcpoLahore) April 14, 2022
ارشد شریف نے لکھا تھا کہ میرا یہ بھائی سیاچین پر ملک کا دفاع کر چکا ہے۔ سلمان رفیق اور حافظ نعمان اگلی گاڑی میں تھے جب ان کے گارڈز نے میجر حارث کو مارا، یہ سب افسوسناک ہے۔
