English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تجزیہ 33

القمر

یوکرین پر روس کے  حملوں کو دو  مہینے میں پورے ہونے کے قریب ہیں تو  اسے میدان جنگ میں  سنگین  سطح کی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا  ہے۔ پوتن  نے  وسیع  پیمانے کے  اور پرجوش اہداف کے ساتھ جو جنگ شروع کی تھی، اس میں روس کو کیف کے محاذ سے مکمل طور پر پس قدمی کرنی  پڑی۔ اب یہ  جنگ خاص طور پر دونباس کے علاقے اور ماریوپول شہر  میں جاری ہے۔ تاہم یہ  روس کے لیے بھاری فوجی نقصانات  کا باعث بن ہے۔ روس پر بین الاقوامی تنہائی اور پابندیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ خاص طور پر بو چا  جیسے علاقوں میں  رونما  ہونے والے واقعات نے بین الاقوامی سطح  پر شدید غصے کو جنم دیا ہے۔

  سیتا سیاسی  پالیسیوں کے  تحقیق دان  جان اجون کا مندرجہ بالا موضوع پر  تجزیہ ۔۔ ۔

روسی صدر پوتن  کا خیال تھا کہ وہ  بڑے اور اہم  اہداف کے ساتھ یوکرین پر حملہ کرکے مختصر دورانیہ   میں اپنے نظریات کے قریب  کسی حکومت کے قیام کا ماحول پیدا کر سکتے  ہیں۔ لیکن ایسا  دکھائی دیتا  ہے کہ روسی فوج یوکرین میں کسی دلدل میں پھنس چکی  ہوئی ہے۔ فوج کو کیف کے محاذ کو تقریباً اس طرح ختم کرنا پڑا جیسے وہ میدان جنگ سے راہ  فرار اختیار کر  رہے ہوں۔ اسوقت  یہ اضافی   کمک کے ساتھ دونباس کے آس پاس یوکرین کی فوج  سے جنگ لڑ رہی ہے۔

ماریوپول میں محلوں میں  مقامی عوام کے ساتھ بھی  لڑائی جاری ہے۔ جب کہ روسی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے،   ابتدائی ایام کی حد تک نہ بھی ہو تو بھی روسی فوج کو اس لڑائی میں بھاری نقصانات  در پیش ہیں، دوسری جانب یوکرینی فوج، جس نے کیف کے محاذ پر فتح کے ساتھ اپنے حوصلوں میں تقویت حاصل کی ہے  اب دونباس کا دفاع کرنے کی کوششوں میں مصروف  ہے۔

یوکرین کو مغربی ممالک کی فوجی اور اقتصادی مدد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جب کہ مین پیڈ اور اینٹی ٹینک ہتھیار، جو کہ غیر متناسب طاقت کے عناصر ہیں، کی منتقلی  کا عمل بھی جاری  ہے۔ سلوواکیہ کے بلند فضائی دفاعی نظام S300 کو بھی یوکرین منتقل کر دیا گیا ہے۔  اس ملک کو مزید بھاری ہتھیاروں کی ترسیل  کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔

میدان ِ جنگ میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو بوچا  سے  منظر عام پر آنے والے  رونگٹے  کھڑے  کرنے والے مناظر  نے دنیا بھر کو شدید دھچکہ لگایا ہے۔ قریب  34 دنوں تک روسی قبضے  میں  رہنے والے  اس علاقے میں تقریباً  قتل عام   ہوا ہے۔  جب کہ اجتماعی قتل اور قبریں  بھی منظر عام پر آ رہی ہیں، خواتین کی عصمت دری کا دعویٰ کرنے والے  بیانات  واقعی  میں انتہائی بیانک  ہیں۔ بوچا  کے مناظر نے  اس غیر  حق بجانب  روسی قبضے  برخلاف  عالمی برادری میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

 روس کے برخلاف تنہائی اور پابندیوں  میں  تواتر سے اضافہ ہو رہا ہے تو  پوتن کا قبضے پر مصر ہونا  ان کی کرسی اور ملک کو کسی بند  گلی کی جانب دھکیل رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے