اسلام آباد (آن لائن+صباح نیوز) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کا کام لنگرخانے بنانا نہیں بلکہ روزگار دینا ہے،لنگر خانوں کو نہیں چلایا جا سکتا، جس نے لنگر خانے بنانے ہیں وہ حکومت میں نہ آئے۔ وزیر اعظم ہاؤس میں سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران ان کا کہنا تھاکہ میں کنفرم کر سکتا ہوں کہعمران خان نے توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف 14 کروڑ میں دبئی میں بیچے،قیمتی تحائف میں ڈائمنڈ جیولری، بریسلٹ، گھڑیاں اور سیٹ شامل ہیں ۔ عمران خان نے پہلے توشہ خان کا قانون تبدیل کیا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مجھے بھی ایک بار گھڑی تحفے میں ملی تھی جسے میں نے توشہ خانہ میں جمع کرا دیا تھا، مجھے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوںنے کہا کہ ہیلتھ کارڈ پروگرام نواز شریف کا دیا ہوا ہے،2018ء میں ہماری حکومت ہوتی تو ہیلتھ کارڈ پورے ملک میں دے چکے ہوتے۔ وزیراعظم کے بقول اپنے بیٹے کو وزیر اعلیٰ بنانے کا کوئی شوق نہیں تھا، ہم نے پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کی پیشکش تھی، انہوں نے یہ آفر قبول کرتے ہوئے دعائے خیر بھی کی تھی، دونوں جانب سے ایک دوسرے کو مٹھائیاں بھی کھلائی گئی تھیں لیکن اس کے باوجود پرویز الٰہی بھاگ گئے جس کی وجہ سے ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا تھا، حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کا فیصلہ میرا نہیں بلکہ پارٹی اور اپوزیشن اتحاد کا تھا کیونکہ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ پنجاب میں کوئی ایسا شخص وزیراعلیٰ ہو جو ڈلیور کر سکے اور پھر سب نے متفقہ طور پر حمزہ شہباز کو نامزد کیا ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک دو دن میں کابینہ مکمل کر لی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت توانائی سے بجلی کے کارخانوں کو ایندھن کی فراہمی متعلق پوچھا، وزارت توانائی کے افسر پہلے آئیں بائیں شائیں کرتے رہے، پھر کہا وہ نیب کے خوف کی وجہ سے فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں حکومت نے چینی کی برآمد پر پابندی لگادی ،یہ پابندی رواں سال کے دوران نافذ رہے گی اور اس پابندی کے خاتمے کا اعلان بعد میں صورتحال دیکھ کر کیا جائے گا ۔ مزید برآں وزیراعظم نے ایف بی آر سے ٹیکس محصولات کی رپورٹ طلب کرلی۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیرِ اعظم سے چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد اشفاق نے ملاقات کی، جس میں چیئرمین نے وزیرِ اعظم کو موجودہ ٹیکس محصولات کی صورتحال پر بریفنگ دی۔قبل ازیں وزیراعظم سے بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ملاقات کی جس میں آغا حسن بلوچ، ہوان نوتیزئی، ثنا بلوچ ، حمل کلمتی بھی شریک ہوئے ۔ ملاقات میں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق بات چیت کی گئی ۔ سردار اختر مینگل نے شہباز شریف سے تجارتی روٹ کھولنے اور چمن کوئٹہ کراچی موٹروے بنانے کا مطالبہ کیا ۔
اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو دی گئی افطار ڈنر سے خطاب کررہے ہیں
