English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکہ نے پاکستان سے فوجی اڈے نہیں مانگے،معید یوسف


Alkhidmat

اسلام آباد:سابق مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکہ نے پاکستان سے فوجی اڈے نہیں مانگے، پاک امریکہ مذاکرات میں ’’ بیس‘‘کا لفظ ایک مرتبہ بھی استعمال نہیں کیا گیا، کسی امریکی عہدیدار یا قانون ساز نے ائیر بیس کا مطالبہ نہیں کیا۔

Alkhidmat

گزشتہ سال امریکہ کے دس روزہ دورے کے دوران واشنگٹن میں پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا تھاکہ امریکی حکام سے بات چیت کے دوران ایک بار لفظ بیس کا ذکر نہیں کیا گیا، کسی بھی طرف سے اڈوں پر کوئی بات نہیں کی گئی کیونکہ ہم پہلے ہی اپنی پوزیشن واضح کر چکے ہیں، وہ باب بند ہوچکا ہے۔

امریکی اور پاکستانی میڈیا دونوں کی ابتدائی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر اثر انداز ہونے کے لیے پاکستان میں فوجی اڈے تلاش کر رہی ہے، خاص طور پر اگر طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا۔

کانگریس کی حالیہ سماعتوں میں امریکی حکام نے افغانستان تک پہنچنے اور خطے میں اڈے رکھنے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی بات کی لیکن یہ نہیں بتایا کہ کہاں پر اڈاے چاہیئے،اگر امریکہ اور چین کے درمیان تنا ئوہے تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دونوں کے ساتھ ہمارے تعلقات ہموار رہیں گے،جبکہ اسلام آباد کی خواہش ہے کہ دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار ر ہیں۔ امریکی میڈیا کی حالیہ رپورٹس میں کہا گیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعلقات کی بحالی میں دو اہم رکاوٹیں افغانستان اور چین ہیں۔

ان رپورٹس کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ اسلام آباد کابل پر طالبان کے قبضے کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ امریکی پالیسی ساز بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنے کے لیے امریکی قیادت والے اتحاد میں شامل ہو،ان قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ پاکستان، امریکہ یا چین کے ساتھ کسی طور پر تعلقات خراب نہیں دیکھنا چاہتا ہے، پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ درحقیقت ہمارا مقام ہمیں امریکہ اور چین کے درمیان اچھے تعلقات کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جیسا کہ ہم نے 1970 میں کیا تھا،معیدیوسف نے تسلیم کیا کہ امریکی حکام، قانون سازوں اور علما کے ساتھ ملاقاتوں میں افغان مسئلہ باقاعدگی سے اٹھایا گیا تھا۔

انہوں نے ماضی کی بات سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان امریکہ کے ساتھ تعاون کرتا تو وہ افغانستان میں طالبان کو شکست دے سکتے تھے، ہم نے ان پر زور دیا کہ وہ مستقبل پر توجہ مرکوز کریں۔ اگلے تین مہینوں میں جو کچھ ہوگا وہ افغانستان کے مستقبل کا تعین کرے گا، پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں موجود رہے اور ماضی کی طرح قائدانہ کردار ادا کرتا رہے۔ درحقیقت ہمارے خیال میں مکمل امریکی انخلا پورے خطے پر منفی اثر ڈالے گا، افغانستان میں امن و استحکام پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ خواہش ہے۔

ا نہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کا ایک ہی مقصد افغانستان میں سیاسی تصفیہ تک پہنچنا ہے، اختلاف صرف طریقہ کار پر ہے اور اسی وجہ سے ہم نے وہاں پر امریکہ کی موجودگی کا فیصلہ کیا ۔تاہم معید یوسف نے تسلیم کیا کہ پاکستان اور کابل میں موجودہ حکومت کے درمیان اختلافات ہیں، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کے بارے میں جارحانہ بیانات دیتے رہتے ہیں۔

Alkhidmat

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے