مظفر آ باد:سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردارعبد القیوم نیازی نے کہا ہے کہ اگر استعفی مانگا جاتا تو فوری دے دیتا، زندگی بھر کبھی کسی کے آگے جھکا اور نہ ہی بکا، آٹھ ماہ کے دوران تاریخ ساز اقدامات کیے،
جو ریاست کی تعمیر و ترقی کیلئے کارگر ثابت ہوں گے، ایڈھاک ایکٹ کا خاتمہ ، بلدیاتی الیکشن، اوورسیز کشمیریوں کو ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ سمیت میگا ترقیاتی پروجیکٹس کا آغاز کیا۔ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردارعبد القیوم نیازی نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ
آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار رمضان پیکج دیا، اپنے دورِ اقتدار میں اداروں میں اصلاحات کا آغاز کیا، گڈ گورننس کے قیام کیلئے وزرا کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے کچھ وزرا آٹھ ماہ دفاتر ہی نہیں آئے۔ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ کیا گڈ گورننس کے قیام کیلئے وزرا کی کارکردگی ناگزیر نہیں ہوتی پارلیمانی روایات میں حکومتوں کی تبدیلی سسٹم کا حصہ ہے، 2006 کی اسمبلی میں چار حکومتیں تبدیل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ
یہ دنیا کی ریت ہے اور جمہوریت کا تقاضا بھی ہے، مجھے اللہ کے بعد عمران خان نے وزارتِ عظمی کا منصب دیا، میرا منصف اللہ کے بعد عمران خان کی امانت تھا جو واپس لٹا دیا، آج عمران خان نے یہ منصب سردار تنویر الیاس کو دیا انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔ سردارعبد القیوم نیازی نے کہا ہے کہ اقتدار ملنے پر اللہ کا شکر گزار ہوں
اور جانے پر بھی اس سے راضی ہوں، مجھے تکلیف چھپ کر وار کرنے پر ہوئی، اگر استعفی مانگا جاتا تو فوری دے دیتا۔ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ اپنے اقتدار کے دوران وزارتِ عظمی کے منصب کا ناجائز استعمال نہیں کیا، مجھے سابق وزیراعلی امین گنڈا پور نے حکومت ختم کرنے کی دھمکی دی تھی، میں نے ان سے سوال کیا تھا کہ آپ کے پاس وہ وسائل کون سے ہیں۔
