اسلام آباد(نمائندہ جسارت+اے پی پی) قومی اسمبلی میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کے مواخذے کا مطالبہ کردیا گیا۔جمعرات کو اسپیکرراجا پرویز اشرف کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اسپیکر نے جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما زاہد اکرم درانی کے بلا مقابلہ ڈپٹی سپیکر منتخب ہونے کا اعلان کیا جس کے بعد زاہد اکرم درانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں ڈپٹی اسپیکر نے کہاکہ ایوان کے ارکان کا شکر گزار ہوں جنہوں نے بلا مقابلہ منتخب کیا، عوام کی خدمت ہمیں وراثت میں ملی ہے اور میرے والد وزیر اعلیٰ رہے ہیں، میرے بھائی کم عمر ترین رکن اسمبلی بنے اور میں پورے ایوان سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس عہدے کا وقار بحال کروں گا۔ان کا کہناتھا کہ مجھ سے پہلے جوشخص ڈپٹی اسپیکرتھا اس نے آئین کی پامالی کی ہم وہ تقدس بحال کریں گے۔جے یو آئی ف کے رہنما اوروفاقی وزیرمولانا اسعد محمود نے کہاکہ سابق ڈپٹی اسپیکرکے دورمیں ریکارڈ متنازعہ قانون سازی کی گئی، عمران خان 100سال بھی حکمرانی کرلیں تب بھی ملک کوترقی کی راہ پرنہیں ڈال سکتے جبکہ مرتضیٰ جاوید عباسی کا کہنا تھا عمران خان بہادرلیڈرہوتے تو اپوزیشن میں بیٹھ کراپنے مینڈیٹ کی نمائندگی کرتے۔علاوہ ازیں جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم فوری طور پر اتوار کی چھٹی ختم کرکے جمعہ کی چھٹی کا اعلان کریں، مساجد اور مدارس کے یوٹیلٹی بلوں پر ٹیکس ختم کیے جائیں۔ انہوںنے نومنتخب ڈپٹی اسپیکر کو مبارکباد پیش کی اورساتھ ہی یہ بھی کہا کہ عمران خان سمیت کسی کو بھی برے القابات سے مخاطب کرنا شرعا ناجائز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی تو آگئی ہے مگر نظام میں تبدیلی نہیں آئی، جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ یہ ملک کلمہ کے نام پر بنا تھا اس میں اللہ کا قانون نافذ ہونا چاہیے، ہمیں امریکا اور آئی ایم ایف کی غلامی نہیں کرنی چاہیے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے مطالبہ کیا کہ میرا 2019ء سے ربعہ کے حوالے سے بل ہے جو کمیٹی میں ہے، اگر واقعی اسلامی قانون کے حوالے سے جے یو آئی (ف) سنجیدہ ہے تو سودی کاروبار کے سدباب کے حوالے سے اس بل کو منظور کیا جائے۔مزید برآں ن لیگ کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا نے صدرمملکت کے مواخذے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ ایوان میں ہمارے پاس دوتہائی اکثریت بھی موجود ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا۔
