واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کے دورے پر موجود کانگریس کی خاتون رکن الہان عمر امریکی حکومت کے زیر اہتمام سرکاری دورے پر نہیں ہیں۔سینئر عہدیدار نے یہ بیان پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میں دیا۔صحافی نے سوال پوچھا کہ جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ عمران خان اب بھی امریکا پر وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کا الزام لگا رہے ہیں جبکہ وہ اپنے حامیوں سے وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاج جاری رکھنے کا بھی کہہ رہے ہیں لیکن کل کانگریس کی خاتون رکن الہان عمر نے اسلام آباد میں عمران خان سے ملاقات کی، یہ ایک طرح سے ایک گھنٹہ طویل ملاقات تھی، عمران خان کے قریبی ساتھیوں کا دعویٰ ہے کہ امریکا، عمران خان کے ساتھ پیش آنے والے معاملات کلیئر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کیا یہ سچ ہے کہ الہان عمر اسلام آباد میں بائیڈن حکومت کی نمائندگی کر رہی ہیں۔نیڈ پرائس نے جواب دیا کہ میرا ماننا ہے کہ الہان عمر امریکی حکومت کے زیر اہتمام سفر پر پاکستان کا دورہ نہیں کر رہیں، اس لیے آپ کو ان کے سفر سے متعلق سوالات کے لیے ان کے دفتر سے رجوع کرنا پڑے گا۔الہان عمر، امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونے والی پہلی دو مسلم خواتین میں سے ایک ہیں اور وہ اس ہفتے کے شروع میں پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچی تھیں، کانگریس ویمن 24 اپریل تک پاکستان میں قیام کریں گی۔انہوں نے صدر ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم شہباز شریف، قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف اور دفتر خارجہ کے حکام کے علاوہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق کانگریس کی خاتون رکن کو چکوٹھی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھی لے جایا گیا جہاں انہیں 2003 کے جنگ بندی معاہدے کے احترام کے حوالے سے پاکستانی اور بھارتی فوجوں کے درمیان تازہ مفاہمت سے پہلے اور بعد کی صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر جنگ بندی سے قبل بھارتی گولہ باری سے متاثر ہونے والے کچھ رہائشی وہاں جمع ہوئے اور اپنی وحشت کی داستانیں بیان کیں۔
