اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے ارتھ ڈے (یوم ارض) کے حوالے سے پیغام میں کہا ہے کہ وفاقی وزارت برائے ماحولیاتی تبدیلی میں ناقابل تجدید پلاسٹک بوٹلز اور دیگر پلاسٹک کی اشیا کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے، ہماری زمین کو درپیش ماحولیاتی خطرات اور ان کے متعلق عوامی آگاہی پیدا کرنے کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ارتھ ڈے (یومِ ارض) منایا جا رہا ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ زمینی وسائل کا بے دریغ استعمال آلودگی اور دیگر ماحولیاتی مسائل کا سبب بن رہا ہے،گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی سے ہمارے گلیشیئر اور جنگل ختم ہو رہے ہیں،جب ہماری زمین سانس لیگی تو ہم بھی سانس لے سکے گے ورنہ نہیں،اپنی زندگی سے ناقابل تجدید پلاسٹک کے استعمال کو ختم کر کرہ ارض کو بچائیں، سال 2020ءمیں پاکستان میں 3.9 ملین ٹن پلاسٹک ویسٹ پیدا ہوا،ایک اندازہ ہے کہ پاکستان 2050 تک سالانہ 6.12 ملین ٹن پلاسٹک ویسٹ پیدا کرے گا۔
