وزیراعظم شہباز شریف نے کوٹ لکھپت جیل لاہور کے دورے کے دوران پاکستان بھر میں قیدیوں کی سزا میں دو ماہ کی کمی کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران جیل حکام کو خصوصی تاکید کی کہ قیدیوں کی سہولت کے لیے دستیاب وسائل کو مؤثر طریقے سے بروئے کار لایا جائے تاکہ قیدیوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا جو جیلوں میں قیدیوں کی سہولت اور مجموعی نظام کی بہتری کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کرے گی۔
وزیراعظم کی جانب سے وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں چاروں صوبوں کی نمائندگی کرنے کے لیے افسران شامل ہوں گے۔
وزیراعظم کا پی کے ایل آئی کا بھی دورہ
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ (پی کے ایل آئی) اسپتال لاہور کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ اسپتال ہم نے غریبوں کی خدمت کے لیے بنایا تھا، اس اسپتال کی تعمیر سے قبل پاکستانی عوام علاج کرانے ہندوستان اور چین جاتے تھے، ہم نے زرمبادلہ بچانے کے لیے یہ اسپتال بنایا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی کے ایل آئی اسپتال میں صرف 17 فیصد مریضوں کا مفت علاج کیا گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم پر الزامات لگائے گئے ہم نے اتنا پیسہ لگا کر یہ اسپتال بناکر قومی وسائل کا ضیاع کیا، اس سلسلے میں میں خود 2 مرتبہ نیب کے عقوبت خانوں میں رہ کر آیا ہوں مگر کوئی کرپشن ثابت نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پی کے ایل آئی پورے ملک کے عوام کے لیے ہے، پی کے ایل آئی میں 20 آپریٹنگ یونٹس ہیں،یہ اسپتال ملک کا جون ہاپکنگ ہے۔
منبع: ڈان نیوز
The post وزیراعظم نے پاکستانی قیدیوں کی سزا میں دو ماہ کی کمی کا اعلان کردیا appeared first on شفقنا اردو نیوز.
